ایران امریکا جنگ کے اثرات، فضائی سفر میں 35 فیصد اضافہ، مہنگائی کا عذاب

ایران امریکا جنگ کے اثرات، فضائی سفر میں 35 فیصد اضافہ، مہنگائی کا عذاب

ایران اور امریکا کے مابین جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال نے دنیا بھر کی ایوی ایشن انڈسٹری کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

 اس کشیدگی نے فضائی سفر کو مشکل اور مہنگا بنا دیا ہے، جبکہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مسافروں پر اضافی بوجھ ڈال دیا ہے، جنہیں 30 سے 35 فیصد تک زائد اخراجات برداشت کرنے پڑ رہے ہیں۔کرونا وائرس کے بعد یہ سب سے بڑا بحران ہے، جس نے ایوی ایشن کو مالی نقصان سے دوچار کیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں، اور تاجروں نے ایئر کارگو کا سہارا لیا، مگر ائیر لائنز نے بھی کرایوں میں 40 سے 50 فیصد تک اضافہ کیا ہے۔ اگر حالات جلد بہتر نہ ہوئے، تو کئی ہوائی کمپنیاں آپریشن بند کرنے پر مجبور ہو سکتی ہیں۔ عالمی سطح پر ایوی ایشن کا بحران سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔

مشرقی وسطیٰ کی فضائی حدود بار بار بند ہونے کی وجہ سے دنیا بھر کے فضائی سفر کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ اب تک 52,000 سے زائد پروازیں مکمل طور پر منسوخ کی جا چکی ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان بھارت کو پہنچا ہے، جہاں فضائی آپریشن میں 50 سے 60 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ اس بحران سے تقریباً 60 لاکھ سے زائد مسافر براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔یہ صورتحال عالمی ایوی ایشن انڈسٹری کے لیے ایک بڑے چیلنج کا روپ اختیار کر چکی ہے، اور جلد از جلد حالات کے بہتر ہونے کی امید کی جا رہی ہے۔