ٹیکساس کے ہل کنٹری میں شدید سیلاب کے بعد ایک تاریخی دریافت ہوئی ہے جہاں تقریباً 11 کروڑ سال پرانے گوشت خور ڈائناسور Acrocanthosaurus کے قدموں کے نشانات برآمد کیے گئے ہیں۔
یہ قدموں کے نشانات تین پنجوں والے ہیں اور مجموعی طور پر 15 بڑے نشان آپس میں جُڑے ہوئے ملے ہیں، جن کی لمبائی 18 سے 20 انچ ہے۔ماہرین کے مطابق یہ نشانات گلین روز فارمیشن نامی قدیم چونا پتھر کی تہہ میں محفوظ ہیں، جو خود بھی 11 سے 11.5 کروڑ سال پرانا ہے۔ یونیورسٹی آف ٹیکساس، آسٹن کے جیکسن اسکول میوزیم آف ارتھ ہسٹری کے حیاتیات کے ماہر میتھیو براؤن نے کہا کہ یہ Acrocanthosaurus نامی تقریباً 35 فٹ لمبے، دو ٹانگوں پر چلنے والے گوشت خور ڈائناسور کے ہیں۔یہ دریافت اس علاقے میں ہوئی ہے جہاں 1985 میں 18ویں صدی کا ایک توپ خانہ ملا تھا۔ سیلاب کی وجہ سے مٹی اور بجری کے بہنے سے یہ قدموں کے نشانات نمایاں ہو گئے جبکہ اردگرد کے درخت بھی اُکھڑ گئے۔
حکام اور ماہرین اس بات کا خاص خیال رکھ رہے ہیں کہ صفائی کے دوران بھاری مشینری ان نشانات کو نقصان نہ پہنچائے۔ جلد یہاں ماہرین کی ٹیم پہنچ کر نقشہ سازی اور تھری ڈی امیجنگ کے ذریعے ان نشانات کا تفصیلی ریکارڈ تیار کرے گی تاکہ یہ بھی معلوم کیا جا سکے کہ یہ نشانات ایک ڈائناسور کے ہیں یا کسی گروہ کے۔