لاہور میں بارش،ستلج میں فلڈ الرٹ

 لیسکو کے 120 فیڈرز ٹرپ، قبولہ میں حفاظتی بند ٹوٹنے سے پانی آبادیوں میں داخل، آج بھی بارش کی پیش گوئی 
لاہور، اسلام آباد، پاکپتن ( کرائم رپورٹر) مون سون کے چھٹے اسپیل کا آغاز ہو گیا۔ لاہور میں ایک گھنٹہ موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے، لیسکو کا ترسیلی نظام متاثر، 120 سے زائد فیڈرز ٹرپ، متعدد علاقوں میں بجلی کی سپلائی معطل ہو گئی۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بھی مختلف شہروں میں تیز ہوائوں، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کر دی ہے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز صوبائی دارالحکومت میں موسلا دھار بارش نے جل تھل ایک کر دیا۔ شہر میں اوسطاً 43.2 ملی میٹر بارش ہوئی، سب سے زیادہ بارش پانی والا تالاب کے علاقے میں 86 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ فرخ آباد میں 85، جیل روڈ پر 25، ایئرپورٹ پر 2، گلبرگ میں 60، لکشمی چوک میں 83، اپر مال میں 7، مغلپورہ میں 19، تاجپورہ میں 1، نشتر ٹائون میں 78، چوک ناخدا میں 57، گلشن راوی میں 29، اقبال ٹائون میں 45، منا آباد میں 43، جوہر ٹائون میں 44 اور قرطبہ چوک میں 27 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔اس دوران شملہ پہاڑی، لکشمی چوک، مال روڈ سمیت دیگر شاہرائوں پر بارشی پانی جمع ہو گیا، جس سے موٹرسائیکلیں اور گاڑیاں بند ہوتی رہیں اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری جانب موسلا دھار بارش کے باعث لیسکو کے 120 سے زائد فیڈرز ٹرپ ہونے اور دیگر تکنیکی خرابیوں کے باعث گلشن راوی، سمن آباد، قلعہ گجر سنگھ سمیت مختلف علاقوں میں بجلی بند رہی۔ ٹرانسفارمر جلنے سے مختلف علاقوں میں 8 سے 10 گھنٹے تک بجلی بند رہنا معمول بن چکا ہے۔دریں اثناء￿  پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب نے کہا ہے کہ تربیلا ڈیم میں 96 فیصد اور منگلا ڈیم میں 63 فیصد پانی بھر چکا ہے۔ دریائے سندھ میں چشمہ بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، دریائے راوی کے ملحقہ نالہ بسنتر میں نچلے درجے کی سیلابی سطح برقرار ہے۔ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے دریائے ستلج اور اس سے ملحقہ ندی نالوں میں ممکنہ سیلاب سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مون سون کی بارشوں کا نیا سلسلہ 13 اگست سے شروع ہونے کا امکان ہے۔علاوہ ازیں پاکپتن میں قبولہ شریف کے مقام پر دریائے ستلج کا پانی حفاظتی ڈھولہ بند توڑتے ہوئے فصلوں اور آبادیوں میں داخل ہو گیا۔ کئی فٹ چوڑے شگاف سے پانی کا بہائو مزید علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے اور علاقہ مکین نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ترجمان محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 28 اور زیادہ سے زیادہ 36 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ آلودگی کی مجموعی شرح 79 فیصد رہی۔ ادھر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ڈومیلی (جہلم) اور پسرور (سیالکوٹ) کے برساتی نالوں میں دو بچوں کے ڈوب کر جاں بحق ہونے کے واقعات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور جہلم و سیالکوٹ کی انتظامیہ سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔