وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر نے اتائیت کے خلاف آپریشن کے لیے تمام چیف آفیسرز (سی اوز) ہیلتھ کو 15 دن کی مہلت دی ہے۔
یہ فیصلہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے کی، اور اجلاس میں سیکرٹری صحت و آبادی نادیہ ثاقب، سپیشل سیکرٹری عون عباس، راو عالمگیر اور دیگر افسران نے شرکت کی، جب کہ تمام اضلاع کے سی اوز نے آن لائن شرکت کی۔اجلاس میں خواجہ عمران نذیر نے سی اوز کو ہدایت دی کہ وہ ڈی ایچ کیوز، بی ایچ یوز اور آر ایچ سی میں سروس ڈلیوری کے معیار کو بہتر بنائیں اور صحت کی سہولتوں کی فراہمی کو 9 بجے صبح سے 5 بجے شام تک کی قید سے آزاد کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت سے متعلق تمام خدمات کو 24 گھنٹے دستیاب بنانا ہوگا اور اتائیت کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کرنا ضروری ہے۔وزیر صحت نے سی اوز کو اتائیت کے خلاف موثر اقدامات کے لیے 15 دن کی مہلت دی اور پہلے مرحلے میں 150 بی ایچ یوز کے اطراف میں غیر قانونی اور غیر مجاز ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کرنے کا ٹارگٹ دیا۔ اس کے ساتھ ہی خواجہ عمران نذیر نے غیر قانونی میٹرنٹی ہومز کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی ہدایت بھی کی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اتائیت کے خلاف جنگ میں ضلع انتظامیہ اور پولیس سے مکمل تعاون حاصل کیا جائے گا، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ سیل کیے ہوئے کلینک دوبارہ آپریشنل نہ ہوں۔ وزیر صحت نے مریم نواز کی طرف سے ڈاکٹرز کو باعزت روزگار فراہم کرنے کی جانب اہم قدم اٹھانے کا ذکر بھی کیا۔اس کے علاوہ، خواجہ عمران نذیر نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کا مقصد 12 کروڑ عوام تک عالمی معیار کی بلا معاوضہ صحت کی سہولتیں پہنچانا ہے، اور اس ویژن کی تکمیل میں ہمیں ہراول دستے کا کردار ادا کرنا ہو گا۔اس اقدام کا مقصد عوام کو بہتر صحت کی سہولت فراہم کرنا اور اتائیت جیسے مسائل کا خاتمہ کرنا ہے تاکہ صحت کی خدمات کا معیار بہتر ہو اور عوام کو بلا خوف و خطر صحت کی سہولتیں دستیاب ہوں۔