پولیس اہلکاروں کی ایک ٹیم، جس میں اے ایس آئی جہانگیر بھی شامل تھے، قتل کے ایک ملزم اسلم کو گرفتار کرنے کے لیے گئی تھی۔
تاہم، گرفتاری کے دوران ملزم کے ساتھیوں نے پولیس پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں اے ایس آئی جہانگیر سمیت کئی اہلکار زخمی ہو گئے۔ ملزمان نے جہانگیر پر تشدد کیا اور بعد میں انہیں چھت سے نیچے گرا دیا۔ اس دوران ملزم اسلم موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا، جبکہ پولیس نے دیگر دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
واقعے کی تفصیلات:
گرفتاری کی کارروائی:
پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ قتل کا ملزم اسلم کسی مقام پر چھپا ہوا ہے۔اے ایس آئی جہانگیر اور دیگر اہلکاروں نے اسے گرفتار کرنے کے لیے کارروائی کی۔
ملزمان کی طرف سے مزاحمت اور تشدد:
جب پولیس نے اسلم کو پکڑنے کی کوشش کی، تو اس کے ساتھیوں نے شدید مزاحمت کی۔ملزمان نے پولیس اہلکاروں پر لاٹھیوں اور ممکنہ طور پر ہتھیاروں سے حملہ کیا۔اے ایس آئی جہانگیر کو نشانہ بنایا گیا، ان پر تشدد کیا گیا اور بعد میں چھت سے دھکیل دیا گیا، جس سے انہیں شدید چوٹیں آئیں۔
ملزم کی فرار اور گرفتاریاں:
تشدد اور ہنگامے کے دوران، ملزم اسلم فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔پولیس نے کارروائی جاری رکھتے ہوئے دو دیگر ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
ایف آئی آر کے مطابق الزامات:
پولیس کے مطابق، ملزمان نے گرفتاری سے بچنے کے لیے جان بوجھ کر تشدد کیا۔واقعے کے بعد مزید تحقیقات جاری ہیں، اور فراری ملزم اسلم کی تلاش کی جا رہی ہے۔
پولیس کی کارروائی اور ردعمل:
زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اے ایس آئی جہانگیر کا علاج جاری ہے۔گرفتار شدہ ملزمان کے خلاف قتل، پولیس پر حملہ اور رکاوٹ پیدا کرنے کے الزامات میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔پولیس نے ملزم اسلم کو گرفتار کرنے کے لیے مزید چھاپے مارے ہیں۔
سیاسی و سماجی ردعمل:
مقامی رہنماؤں اور عوام نے پولیس اہلکاروں پر حملے کی مذمت کی ہے۔پولیس افسران کی یونینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔یہ واقعہ پولیس کے خلاف جرائم پیشہ عناصر کی جرات مندانہ کارروائیوں کو ظاہر کرتا ہے، جس کے بعد پولیس انتظامیہ نے مزید سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔