اسلام آباد ہائیکورٹ میں حالیہ انتظامی تبدیلیوں اور اختیارات کے تنازعے نے عدلیہ میں بحث کا نیا باب کھول دیا ہے۔
چیف جسٹس عامر فاروق کی زیر صدارت ہونے والے فیصلے میں پانچ ججوں کی ریپریزنٹیشن مسترد کرتے ہوئے، تین صوبائی ہائیکورٹس سے منتقل ہونے والے ججوں کی سنیارٹی کو برقرار رکھا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد، وکلا برادری کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جس میں ان تبدیلیوں کو عدلیہ میں تقسیم اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا گیا ہے۔مزید برآں، ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قانونی جواز کے بغیر کیسز کو سنگل سے ڈویژن بنچ میں منتقل نہ کریں اور آئندہ ٹرانسفر یا مارکنگ کرتے وقت عدالتی گائیڈ لائنز کا خیال رکھیں۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ جب تک فل کورٹ ہائیکورٹ رولز پر مزید رائے نہ دے، انہی گائیڈ لائنز پر عمل کیا جائے۔
اس کے علاوہ، چیف جسٹس کے انتظامی آرڈرز میں قانونی جواز کی کمی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں، خاص طور پر سنگل بنچ کے کیسز کو ڈویژن بنچ میں منتقل کرنے کے حوالے سے۔ان تمام developments کے نتیجے میں، اسلام آباد ہائیکورٹ میں انتظامی اختیارات اور ججوں کی تعیناتیوں کے حوالے سے نئے اصول و ضوابط کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے، تاکہ عدلیہ کی آزادی اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔