درجنوں جنگلی بٹیر اور پرندے بازیاب کرکے قدرتی ماحول میں آزاد کر دیے گئے، ملزموں کو لاکھوں روپے جرمانہ،ترجمان
لاہور( کرائم رپورٹر) سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب اور سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات و ماہی پروری پنجاب مدثر ریاض ملک کی خصوصی ہدایت پر صوبے میں چیف وائلڈ لائف رینجر مبین الٰہی کی زیر نگرانی جنگلی جانوروں اور پرندوں کے غیرقانونی شکار، کاروبار اور قبضے کے خلاف م ئوثر کارروائیاں جاری ہیں۔ انہی کارروائیوں کے نتیجے میں وائلڈ لائف رینجرز راجن پور، بہاولنگر، وہاڑی، فیصل آباد، جہلم، راولپنڈی اور اٹک میں مختلف آپریشنز کے دوران 16 ملزمان کے خلاف وائلڈ لائف ایکٹ کی خلاف ورزی پر چالان مرتب کرکے قانونی کارروائی شروع کردی گئی۔ متعدد ملزمان کو محکمانہ معاوضہ کی مد میں پونے چار لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا جبکہ درجنوں جنگلی بٹیر اور دیگر پرندوں کو قدرتی ماحول میں آزاد کر دیا گیا۔ترجمان وائلڈ لائف کے مطابق ڈپٹی چیف وائلڈ لائف رینجر ڈی جی خان سخی محمد جوئیہ کی سربراہی میں کارروائی کے دوران بٹیر کی غیرقانونی نیٹنگ پر تین چالان ہوئے، ایک ملزم کو 20 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا جبکہ سابقہ چالانوں کی مد میں ایک لاکھ پانچ ہزار روپے کی ریکوری کی گئی۔ اسی طرح ڈپٹی چیف وائلڈ لائف رینجر ملتان ریجن ڈاکٹر سجاد حسین کی نگرانی میں وائلڈ لائف رینجر وہاڑی نے راولپنڈی جانے والی ایک بس سے غیرقانونی اسمگل ہونے والے 26 زندہ بٹیروں کے تین کریٹس بر آمد کرکے قانونی کارروائی شروع کردی۔اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر بہاولنگر نے اپنی ٹیم کے ہمراہ بٹیر کی غیرقانونی نیٹنگ پر تین چالان کئے، ایک شخص کو 84 ہزار روپے جرمانہ کیا جبکہ دو مقدمات پر کارروائی جاری ہے۔ راولپنڈی میں اسسٹنٹ وائلڈ لائف رینجر رضوانہ عزیز نے جی ٹی روڈ گوجر خان پر ناکہ لگا کر اسمگل کیے جانے والے 12 زندہ بٹیر بر آمد کرکے دو ملزمان کو 55 ہزار روپے جرمانہ کیا اور پرندے آزاد کردئیے۔ ایک اور کیس میں بٹیر کے غیرقانونی شکاری کو 21 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔اسی طرح فیصل آباد میں ڈپٹی چیف وائلڈ لائف رینجر ڈاکٹر غلام رسول کی سربراہی میں بٹیر نیٹنگ اور تیتر پر قبضے کے الزام میں دو ملزمان کے چالان کیے گئے۔ جہلم میں اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر مرزا عابد نے تین نیٹنگ گیئرز بر آمد کرکے تین ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا۔