کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو لاحاصل جنگ کے بجائے کھیلوں سمیت صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
بلوچستان کے نوجوانوں کو معاشرے کا فعال شہری بنانا ہے تاکہ وہ صوبے کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔آل پاکستان سی ایم بلوچستان گولڈ کپ فٹبال ٹورنامنٹ کی اختتامی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچ نوجوانوں کو سازش کے تحت ایک لاحاصل جنگ میں دھکیلا جا رہا ہے، تاہم حکومت انہیں کھیلوں اور مثبت سرگرمیوں کے ذریعے بہتر مستقبل کی طرف لے جانا چاہتی ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر کہ حکومت عوام کے درمیان نہیں جاسکتی، آج عوام سے بھرے اسٹیڈیم اور ان کی اپنی موجودگی نے غلط ثابت کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں کے مقابلے نوجوانوں کو متحد کرنے اور معاشرے میں مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔سرفراز بگٹی نے ایک دوسرے صوبے کے وزیراعلیٰ کی جانب سے بلوچستان کی مثالیں دینے پر بھی تنقید کی۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست اور ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے اور سیاسی مخالفین کے طرزِ عمل میں فرق یہ ہے کہ جہاں بعض لوگ عوام کو ایک شہر پر چڑھائی کے لیے اکٹھا کرتے ہیں، وہیں بلوچستان حکومت نوجوانوں کو کھیلوں کے میدانوں میں جمع کرتی ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے اپنے ہم منصب کو مشورہ دیا کہ عوام کو احتجاج کے لیے اکٹھا کرنے کے بجائے فیسٹیولز اور صحت مند سرگرمیوں کے لیے جمع کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو مثبت مواقع فراہم کیے جاسکیں۔سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ بلوچستان حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے اور اسے یقین ہے کہ اس جدوجہد میں کامیابی ریاست پاکستان کی ہوگی۔