سوڈان میں مسجد پر حملہ، 13 افراد شہید اور 21 سے زائد زخمی

سوڈان میں مسجد پر حملہ، 13 افراد شہید اور 21 سے زائد زخمی

سوڈان کے مغربی شہر الفشر میں واقع ایک مسجد پر نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے حملے میں کم از کم 13 شہری جاں بحق اور 21 سے زائد زخمی ہو گئے۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ابو شوق کیمپ ایمرجنسی روم نامی رضاکار گروپ نے بتایا کہ حملہ اچانک گولہ باری کے ذریعے کیا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد خاندان جاں بحق یا زخمی ہوئے۔بیان میں کہا گیا کہ کئی متاثرہ خاندان آر ایس ایف کی پیش قدمی کے بعد اپنے گھروں سے بے گھر ہو کر ابو شوق مسجد میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ رضاکاروں نے ملبہ ہٹا کر 13 لاشیں اور متعدد زخمیوں کو نکالا جنہیں قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (OCHA) نے واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور ایکس (سابق ٹوئٹر) پر بیان میں کہا کہ“الفشر میں بار بار ہونے والے حملے قابلِ مذمت ہیں، شہریوں کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔”اب تک آر ایس ایف کی جانب سے مسجد پر حملے سے متعلق کوئی ردعمل یا وضاحتی بیان سامنے نہیں آیا۔

واضح رہے کہ مئی 2024 سے الفشر میں سوڈانی مسلح افواج (SAF) اور آر ایس ایف کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں، جن میں حالیہ دنوں میں مزید شدت آگئی ہے۔ اس لڑائی نے شہری علاقوں میں خوف و ہراس اور بے گھر خاندانوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے۔عینی شاہدین کے مطابق، حملے کے وقت مسجد میں نماز پڑھنے اور پناہ لینے والے شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جس کے باعث واقعے نے مقامی آبادی میں شدید غم و اندوہ کی فضا پیدا کر دی ہے۔