خواجہ آصف، وزیر دفاع پاکستان، نے ایک بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے ہزاروں طالبان کو پاکستان لانے اور ان کی مدد سے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے کا کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی (پاکستان تحریکِ انصاف) اب بھی دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کی بات کر رہی ہے، جو کہ ان کے مطابق ملک کے لیے خطرہ ہے۔انہوں نے اپنی ٹویٹ یا ایکس پر جاری کردہ پیغام میں بتایا کہ افغان حکومت کے ساتھ کئی سالوں پر محیط مذاکرات اور وفود کے کابل آنے جانے کے باوجود پاکستان میں خونریزی رکی نہیں ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے فوجی اور عوام کا خون بہایا جا رہا ہے اور روزانہ فوجی جوانوں کے جنازے اٹھ رہے ہیں، جو ملک میں جاری دہشت گردی کی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔
مزید برآں، انہوں نے افغان مہاجرین کی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے پچھلے 60 سالوں سے تقریباً 60 لاکھ افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کی ہے اور اس کا خمیازہ اپنے خون سے چکایا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ افغان مہاجرین اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں اور یہ "مفت بری" اور "محسن کشی" کا سلسلہ بند کریں، کیونکہ وہ مہمان ہونے کے بجائے میزبانوں کے خون بہانے اور قاتلوں کو پناہ دینے میں ملوث ہیں۔یہ بیان سیاسی اور دفاعی حلقوں میں نیا تنازعہ پیدا کر سکتا ہے، اور اس میں الزام تراشی اور ملکی سلامتی سے متعلق حساس موضوعات شامل ہیں۔