پیٹرول کی قیمت میں کمی یا مزید اضافہ؟ ماہر معاشیات کا بیان

پیٹرول کی قیمت میں کمی یا مزید اضافہ؟ ماہر معاشیات کا بیان

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑنے لگے ہیں۔

پاکستان بھی اس صورتحال سے متاثر ہے، جہاں حالیہ پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ نے شہریوں، خصوصاً موٹرسائیکل سواروں اور متوسط طبقے پر مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ماہر معاشیات ڈاکٹر خاقان نجیب کے مطابق:حکومت نے ایک لیٹر پیٹرول پر عائد پیٹرولیم لیوی 84 روپے سے بڑھا کر 105 روپے 37 پیسے کر دی ہے۔دیگر امپورٹ ڈیوٹیز اور ٹیکسز کو شامل کرنے کے بعد ہر لیٹر پر مجموعی بوجھ تقریباً 125 سے 130 روپے تک پہنچ جاتا ہے۔عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 105 ڈالر فی بیرل ہے، تاہم صبح کے وقت یہ قیمت 119 ڈالر تک جا پہنچی تھی۔قیمت میں عارضی کمی اس وقت دیکھنے میں آئی جب خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک نے اپنے اسٹریٹجک تیل کے ذخائر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا، جس سے مارکیٹ میں کچھ استحکام پیدا ہوا۔
ڈاکٹر خاقان نجیب کے مطابق، اگر برینٹ آئل کی قیمت 85 ڈالر فی بیرل تک آ جائے تو پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 25 سے 30 روپے تک کمی ممکن ہو سکتی ہے۔انہوں نے مزید وضاحت کی کہ آبنائے ہرمز کی بحالی اور سمندری نقل و حمل کے دوبارہ معمول پر آنے کے بعد ہی عالمی منڈی میں صورتحال بہتر ہو سکتی ہے، لیکن فوری جنگ بندی ضروری ہے۔ موجودہ حالات میں فوری بہتری کے آثار نظر نہیں آ رہے، اس لیے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ ہے۔

ماہرین کا شہریوں کے لیے مشورہ:

روزمرہ زندگی کو سادہ بنائیں
توانائی کے استعمال میں ممکنہ حد تک کمی کریں تاکہ معاشی دباؤ کم کیا جا سکے
دوسری جانب، وزیراعظم پاکستان نے قوم سے خطاب میں عندیہ دیا کہ عالمی حالات کے پیش نظر آئندہ دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ناگزیر ہو سکتا ہے۔