وینزویلا کا دارالحکومت کراکس بدترین شہر:خاتون سیاح

لندن (نیٹ نیوز)  برطانیہ کی مغربی سسیکس سے تعلق رکھنے والی جیرالڈین جواکم، جو ایک ہپنوتھراپسٹ اور ویلبیئنگ کوچ ہیں، دنیا کے 60 سے زائد ممالک کی سیر کر چکی ہیں۔ وہ سال میں چار سے پانچ غیر ملکی دورے کرنے کی عادی ہیں اور مختلف خطوں کی ثقافتوں سے لطف اندوز ہونا پسند کرتی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ایک شہر ایسا ہے جہاں وہ دوبارہ کبھی قدم نہیں رکھیں گی۔نیویارک پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں 54 سالہ جواکم نے وینزویلا کے دارالحکومت کراکس کو اپنے بدترین سفری تجربات میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک پیشہ ورانہ دورے کے دوران انہیں نہایت پریشان کن صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، جس نے انہیں انتہائی غیر محفوظ محسوس کروایا۔انہوں نے بتایا کہ وہ  یوراگوئے سے رات گئے کراکس پہنچیں اور پہلے سے بک کروایا گیا ایئرپورٹ ٹرانسفر ان کا منتظر ہونا چاہیے تھا، مگر وہ کئی گھنٹے تنہا انتظار کرتی رہیں۔ رات کے ایک بجے کے بعد، جب ایئرپورٹ سنسان ہو چکا تھا، ان کے فون نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا۔ کچھ دیر بعد، ایک شخص ان کے پاس آیا اور خود کو ان کا ڈرائیور بتایا۔ انہیں کچھ تسلی ہوئی، مگر تب ان کی پریشانی میں اضافہ ہو گیا جب انہوں نے دیکھا کہ گاڑی کے اگلے حصے میں پہلے ہی ایک اور شخص بیٹھا ہوا ہے۔جواکم نے بتایا کہ وہ عام حالات میں کبھی بھی دو اجنبی افراد کے ساتھ گاڑی میں نہ بیٹھتیں، مگر ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ وہ 30 منٹ کے اس سفر کے دوران اپنے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا پن نائف مضبوطی سے تھامے رہیں۔ خوش قسمتی سے وہ محفوظ طریقے سے ہوٹل پہنچ گئیں، لیکن وہاں بھی انہیں بے چینی کا سامنا رہا۔ انہوں نے دروازہ اندر سے بیگ لگا کر بند کیا اور پوری رات جاگتی رہیں۔اگلی صبح ایئرپورٹ پر پہنچنے پر ان کی مشکلات مزید بڑھ گئیں۔ جیسے ہی وہ ایئرپورٹ کے اندر داخل ہوئیں، ایک شخص نے ان کا بیگ اچانک چھین لیا اور بھاگ کھڑا ہوا۔ جواکم اس کے پیچھے دوڑیں، مگر بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ وہ دراصل ایک غیر رسمی چیک اِن سروس مہیا کر رہا تھا۔ اس شخص نے ان سے رشوت وصول کی، جس کے بعد وہ بالاخر اسلا مارگریٹا کے لیے پرواز کر سکیں۔ اس خوفناک تجربے کے بعد، انہوں نے قسم کھائی کہ وہ کبھی دوبارہ کراکس نہیں جائیں گی۔