توازنِ خوف

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
میزائل فتح ون(140کلومیٹر)اورفتح ٹو(00 کلومیٹر)بھی اپنی جگہ اہم تھے، مگریہ ایک نئی جہت کی نمائندگی بھی کرتاہے اوراس سلسلے کی ایک نئی کڑی ہے جورفتار،مہارت اور ٹیکنالوجی کاحسین امتزاج پیش کرتی ہے اوردشمن کے دفاعی نظام کوچکمہ دینابھی اس کے اوصاف میں شامل ہے۔یہ نہ صرف برق رفتاری کے باعث ہدف کوسنبھلنے کاموقع نہیں دیتا بلکہ کم بلندی پرپروازکرتے ہوئے ریڈارسے بچ نکلنے کی صلاحیت بھی رکھتاہے۔گویایہ میزائل نہیں،رفتاراورحکمت کا ایسا سنگم ہے جہاں وقت بھی اس کے سامنے بے بس دکھائی اور زیرہوجاتاہے۔یہ ایک خاموش سایہ ہے جواپنے شکارتک پہنچنے تک دکھائی نہیں دیتا۔
فتح تھری کی اصل قوت اس کے ڈیزائن میں ریم جیٹ انجن میں مضمرہے جواس کے استعمال کی اصل جان ہے۔یہ انجن روایتی راکٹ انجنوں سے مختلف ہوتاہے اورفضاکی ہواکو استعمال کرتے ہوئے زیادہ رفتارحاصل کرتاہے۔گویا یہ زمین کی قوت نہیں بلکہ فضاکی مدد سے آگے بڑھتاہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ میزائل طویل فاصلے تک مسلسل تیزرفتارسے سفرکر سکتاہے اوریہی ٹیکنالوجی اسے آوازکی رفتارسے کئی گناآگے لے جاتی ہے۔چینی میزائل"ایچ ڈی ون"سے مماثلت اس امرکی غمازی اوراشارہ کرتی ہے کہ جدیددفاعی دنیامیں اشتراک ناگزیرحقیقت بن چکاہے۔گویاجدید علم کی سرحدیں نہیں ہوتیں،سرحدیں صرف سیاست کی پیداوارہیں۔صرف مفادات کی حدبندیاں ہوتی ہیں جہاں دانش اوربصیرت کے سامنے ان کی حیثیت ثانوی رہ جاتی ہے۔
براہموس میزائل، جو روس اور بھارت کے اشتراک سے تیار کیا گیا، اپنی نوعیت کا ایک منفرد ہتھیار ہے۔یہ  میزائل بھی اسی ریم جیٹ ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔ یہ  نہ صرف تیز رفتار ہے بلکہ اس میں جدید نیویگیشن سسٹمز نصب ہیں جو اسے راستہ بدلنے اور ہدف کو درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت دیتے ہیں لیکن جدید جنگیں محض اسلحے سے نہیں بلکہ ذہانت اور ٹیکنالوجی کے امتزاج سے جیتی جاتی ہیں۔
براہموس کا سب سے نمایاں پہلواس کااصول’’فائراینڈ فارگیٹ‘‘نظام ہے۔یہ اصول دراصل جدیدجنگی فلسفے کانچوڑہے۔ایک بارہدف مقرر کردیاجائے توپھر انسانی مداخلت کی ضرورت نہیں رہتی گویامیزائل خودایک باشعورسپاہی بن جاتاہے۔ایک باروارکرو،پھر مڑکرنہ دیکھو۔یہ میزائل ریڈارسے بچنے کی صلاحیت رکھتاہے اوراپنے ہدف کوکم سے کم وقت میں نشانہ بناتاہے۔یہ اصول اس نئے دورکی نمائندگی کرتاہے جہاں انسانی مداخلت کم سے کم اورخودکارنظام زیادہ سے زیادہ ہوچکے ہیں۔ایک بارمیزائل لانچ ہوجائے تووہ خودہی ہدف تک پہنچ جاتا ہے،گویامیزائل ایک خودمختارسپاہی بن چکاہے ،ایک ایساسپاہی جوحکم ملتے ہی اپنی ذمہ داری پوری کردیتاہے۔یہ تصوراس نئے عہدکی نشاندہی کرتاہے جہاں فیصلے لمحوں میں ہوتے ہیں اوران کے اثرات صدیوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
فتح تھری کی رینج اگرچہ ظاہرنہیں کی گئی،مگراندازوں کے مطابق یہ280سے500کلومیٹرتک ہوسکتی ہے۔فتح تھری کی رینج کے بارے میں سرکاری سطح پرخاموشی اختیارکی گئی ہے۔
یہ خاموشی بذاتِ خودایک حکمت عملی ہے کیونکہ بعض اوقات نامعلوم ہی سب سے بڑاخوف ہوتاہے۔یہ حکمت عملی دشمن کوغیریقینی کی کیفیت میں مبتلارکھتی ہیاورغیریقینی صورتحال دشمن کیلئیسب سے بڑاچیلنج ،خطرناک ہتھیاراورنفسیاتی دباؤبن جاتی ہے۔گویاجومعلوم ہوجائے،وہ خطرہ نہیں رہتا؛جونامعلوم ہو،وہی اصل خوف ہے۔لیکن یہ بات قرینِ قیاس ہے کہ جوٹیکنالوجی بعدازاں جدید مہارت کے ساتھ میدان میں اترتی ہے،وہ پہلے سے مقابل تمام ہتھیاروں کوسامنے رکھ کراستوارکی جاتی ہے۔
چین اور پاکستان کے دفاعی تعلقات اس میدان میں ایک اہم کرداراداکرتے دکھائی دیتے ہیں۔ریم جیٹ انجن اورگائیڈینس سسٹمزمیں ممکنہ تعاون اس امرکی دلیل ہے کہ جدید جنگیں اب صرف میدان میں نہیں بلکہ تحقیقی مراکزاورلیبارٹریوں میں بھی لڑی جاتی ہیں۔یہ اشتراک دراصل ایک نئے عالمی نظام کی علامت ہے جہاں طاقت کامرکزاسلحہ نہیں بلکہ ٹیکنالوجی بن چکی ہے۔
مئی2025کی مختصرجنگی جھڑپوں نے یہ واضح کردیاکہ اب جنگیں روایتی اورطویل نہیں رہیں۔براہموس اورفتح خصوصاسپرسونک جیسے میزائل اس نئے عہدکے مرکزی کردارہیں جو مستقبل کی جنگوں کومختصر،شدیدمگرتباہ کن نتائج پیداکرسکتے ہیں۔یہ جنگیں شاید دنوں میں نہیں بلکہ گھنٹوں میں فیصلہ کن ہوجائیں۔یہ جنگیں اب میدان میں کم اوراسکرینوں پرزیادہ لڑی جاتی ہیں،جہاں ایک بٹن دبانے سے تاریخ کارخ بدل سکتاہے۔
بیلسٹک میزائل بلندفضامیں طویل فاصلے تک جاکرہدف کونشانہ بناتے ہیں،جبکہ کروزمیزائل ریڈارسے بچتے ہوئے زمین کے قریب رہتے ہوئے خاموشی سے اپناسفرطے کرتے ہیں ۔یہ فرق دراصل دو فلسفوں اورمختلف حکمت عملیوں کاعکاس ہے۔ایک کھلاوار،دوسرا خاموش حملہ۔یوکرین اورمشرق وسطی کی جنگیں اس تبدیلی کی واضح مثال ہیں،جہاں ڈرونز اورمیزائل جنگ کامرکزی ہتھیاربن چکے ہیں۔اورجدیددنیا میں خاموشی اکثرزیادہ مہلک ثابت ہوتی ہے۔
پاکستان کی راکٹ فورس کاقیام ایک اہم ادارہ جاتی پیش رفت ہے جواس بات کی دلیل ہے کہ جدیدجنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ مؤثرتنظیم سے جیتی جاتی ہیں۔یہ اقدام دراصل فیصلہ سازی کوتیزاورمؤثربنانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے گویاعسکری نظم وضبط میں ایک نئی روح پھونکی گئی ہو۔اس کامقصد جوہری اورروایتی میزائلوں کوالگ کرنااورفیصلہ سازی کوتیزبناناہے۔یہ اقدام اس حقیقت کی عکاسی کرتاہے کہ جدیدجنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ تنظیمی نظم وضبط سے جیتی جاتی ہیں۔
فتح تھری جیسے میزائل محض ہتھیارنہیں بلکہ ڈیٹرنس کاذریعہ ہیں۔فتح تھری جیسے میزائلوں کااصل مقصدجنگ کرنانہیں بلکہ جنگ کو روکناہے۔پاکستان کی فوجی ڈاکٹرائن توسیع پسندنہیں بلکہ دفاعی ہے،یہی ڈیٹرنس کافلسفہ ہے،اتنی قوت رکھوکہ دشمن حملے کاسوچ بھی نہ سکے۔اوراسی لیے یہ صلاحیتیں دشمن کوحملے سے بازرکھنے کیلئے تیارکی جارہی ہیں۔یہی وہ فلسفہ ہے جسے اس تصورسے جوڑا جاسکتاہے کہ قوت کامقصد غلبہ نہیں بلکہ ظلم کے دروازے بند کرناہے۔پاکستان کی دفاعی پالیسی اسی اصول پرمبنی ہے،جہاں طاقت کا استعمال نہیں بلکہ اس کا توازن اہم ہوتاہے۔یہ فلسفہ اسلامی فکرسے بھی ہم آہنگ ہے،جہاں قوت کامقصد ظلم کوروکناہے،نہ کہ اس کا ارتکاب کرنا۔
فتح تھری اوربراہموس کاتقابل محض دومیزائلوں کاموازنہ اوردوریاستوں کے درمیان محض عسکری مقابلہ نہیں بلکہ دوفکری نظاموں، دوسائنسی روایتوں اوردوقومی حکمتِ عملیوں،ایک فکری وسائنسی دوڑکی علامت اورایک نئے تقابلی عہدکی کہانی ہے۔یہ دوفکری نظاموں،دوسائنسی روایتوں اوردو قومی حکمتِ عملیوں کاآئینہ دارہے۔یہ ایک ایساعہدہے جہاں علم، ٹیکنالوجی اورحکمتِ عملی مل کر تاریخ رقم کرتے ہیں۔یہ میزائل ہمیں یاددلاتے ہیں کہ جنگیں ہتھیار نہیں جیتتے،بلکہ وہ ذہن جیتتے ہیں جوہتھیارتخلیق کرتے ہیں۔یہ میزائل ہمیں یہ سبق بھی یاددلاتے ہیں کہ زمانہ بدلتانہیں،بدلاجاتاہے اورجوقومیں علم،حکمت اورتیاری کواپناشعاربناتی ہیں،وہی تاریخ کادھارا موڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
آج کامیدانِ جنگ خاموش ہے،مگراس خاموشی میں آنے والے کل کی ٹیکنالوجی کی گونج سنائی دیتی ہے،ایک ایسی گونج جوآنے والے کل کی تاریخ رقم کرے گی۔او یہی وہ سبق ہے جوآنے والی نسلوں کیلئے مشعلِ راہ بن سکتاہے۔