اسلام آباد:وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے انکشاف کیا ہے کہ صرف عام شہری نہیں بلکہ ملک کی بڑی صنعتیں اور فرنس آئل پلانٹس بھی بجلی چوری میں ملوث ہیں، جو قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا رہے ہیں۔
انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2023-24 کے دوران تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی ناقص کارکردگی کے باعث ملک کو 591 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ نقصان نہ ہوتا تو پاکستان کے قرضے اتارنے میں بہت بڑی آسانی ہو سکتی تھی۔اویس لغاری نے کہا کہ ان نقصانات کی تفصیلات اب عوام کے سامنے رکھی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاور ڈویژن اور کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ڈسکوز کی اصلاحات کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسی کے تحت ڈسکوز کے بورڈز میں سفارشات کا کلچر ختم کیا گیا اور میرٹ پر تعیناتیاں کی گئیں۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں اصلاحاتی عمل کے نتیجے میں رواں مالی سال کے دوران ڈسکوز کے نقصانات میں 191 ارب روپے کی کمی کی گئی، جو گزشتہ سال 591 ارب روپے تھے، اب 399 ارب روپے پر آ چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بجلی کے بلوں کی ریکوری کو 96 فیصد تک لے جایا گیا، جو کہ پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ گزشتہ سال بلوں کی مد میں 315 ارب روپے کی رقم ریکور نہیں کی گئی تھی۔اویس لغاری نے انکشاف کیا کہ صرف غریب نہیں بلکہ بڑے صنعتی یونٹ، فرنس آئل پلانٹس اور بعض بااثر حلقے بھی بجلی چوری میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک بڑی فیکٹری کی چوری، کئی دیہاتوں کے مجموعی نقصان سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔وفاقی وزیر کے مطابق لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے سب سے بہتر کارکردگی دکھائی اور بجلی چوری کے خلاف بڑی کارروائیاں کیں۔ انہوں نے بتایا کہ صرف بجلی چوری کے خاتمے سے 10 سے 11 ارب روپے کا نقصان کم کیا گیا۔اویس لغاری نے کہا کہ حکومت پاور سیکٹر کی بحالی کے لیے سنجیدہ اور مضبوط اقدامات کر رہی ہے، تاکہ آئندہ عوام کو اس کا بوجھ نہ اٹھانا پڑے۔