وفاقی حکومت نے بیوروکریسی اور سرکاری اداروں کے ڈھانچے کو ہلکا اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں اہم ترامیم تجویز کر دی ہیں۔
اس سلسلے میں سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے اہم انکشافات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ متعدد وفاقی اداروں کو ختم یا آپس میں ضم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جس کا مقصد حکومت پر سے مالی بوجھ کم کرنا ہے۔
اہم نکات:
اداروں کی بندش اور انضمام کا فیصلہ:
سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کے مطابق اٹھارویں ترمیم کے بعد کئی شعبے صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں، لیکن وفاقی سطح پر اُن سے متعلق ادارے اب بھی موجود ہیں۔ ان اداروں کو ختم کرنے یا آپس میں ضم کرنے کے لیے رائٹ سائزنگ کمیٹی فعال ہو چکی ہے۔
ملازمین کے لیے گولڈن ہینڈ شیک پیکیج:
حکومت چاہتی ہے کہ غیر ضروری ملازمین کو فوری سرپلس پول میں نہ بھیجا جائے بلکہ انہیں اختیاری علیحدگی کے لیے گولڈن ہینڈ شیک کی پیشکش کی جائے۔
ٹیکنالوجی کے ذریعے عملہ کم:
سیکریٹری کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں ایک افسر کے ساتھ 6 ماتحت عملے کی ضرورت نہیں، ٹیکنالوجی کی مدد سے یہ تعداد دو تک محدود کی جا سکتی ہے۔
گریڈ 1 تا 5 اسامیوں کی آؤٹ سورسنگ:
نچلی سطح (گریڈ 1 تا 5) کی آسامیاں آؤٹ سورس کر دی جائیں گی، جس سے حکومت کے تنخواہوں اور پنشن کے بل میں نمایاں کمی آئے گی۔
اثاثوں کی تفصیلات لازمی قرار دینے کی تجویز:
سول سرونٹس ایکٹ میں ترمیم کے تحت سرکاری ملازمین کو اپنے اثاثے لازمی ظاہر کرنے کی شرط شامل کی جائے گی، تاکہ احتساب اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
حکومت کا موقف:
سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ نے واضح کیا کہ یہ اقدامات سرکاری ملازمین کو گھر بھیجنے کے منصوبے نہیں بلکہ ایک نئے نظم و نسق کے تحت ریاستی ڈھانچے کو سادہ، شفاف اور مؤثر بنانے کی کوشش ہیں۔یہ مجوزہ تبدیلیاں ابھی حکومت کی سطح پر زیر غور ہیں اور ان کے حتمی نفاذ کے لیے پارلیمانی منظوری درکار ہوگی۔
پس منظر:
وفاقی حکومت طویل عرصے سے پنشن بل، مالی بوجھ اور بیوروکریسی کے سست نظام پر تشویش کا اظہار کرتی آ رہی ہے۔ ان اقدامات کو "ویژن 2025" اور "ڈیجیٹل گورننس" کے اہداف سے جوڑا جا رہا ہے۔