احمدخان اچکزئی
محترم قارئین، قبائلی معاشرے کی خاموش محرومی، روایات کے نام پر ظلم اور عورت کے بنیادی حقوق کا سوال بلاشبہ، بعض باتیں محض الفاظ نہیں ہوتیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی وہ صدائیں ہوتی ہیں جو پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں۔ قبائلی عورت کی زندگی بھی ایسی ہی ایک داستان ہے، جس میں محنت ہے، قربانی ہے، صبر ہے، مگر افسوس کہ اس کے حصے میں اختیار، عزتِ نفس اور بنیادی حقوق اکثر نہیں آتے۔ ہماری قبائلی خواتین کی قسمت کا المیہ یہ ہے کہ وہ پورے خاندان کی زندگی سنوارنے میں اپنی زندگی کھپا دیتی ہیں، لیکن جب حقوق اور فیصلوں کی بات آتی ہے تو اسے اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔قبائلی عورت صبح چار بجے اٹھتی ہے، پانی لاتی ہے، تنور جلاتی ہے، حتیٰ کہ بعض دیہاتی علاقوں کے خواتین بچوں کو کمر پر باندھتی ہے،کھیتوں میں گندم کاٹتی ہے، پہاڑوں سے لکڑیاں جمع کرتی ہے اور پھر مٹی کے گھر میں مہمان نوازی کے فرائض بھی انجام دیتی ہے۔ اس کی پوری زندگی محنت کی ایک مسلسل داستان ہے۔ وہ خاندان کے لیے پسینہ بہاتی ہے، بچوں کی پرورش کرتی ہے اور گھر کی معیشت میں اپنا حصہ ڈالتی ہے، مگر جرگے میں اس کا نام نہیں، وراثت میں اس کا حق اکثر دبا دیا جاتا ہے اور خاندانی فیصلوں میں اس کی رائے کو وہ اہمیت نہیں ملتی جس کی وہ مستحق ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو عورت گھر اور خاندان کی بنیاد ہے، اسے معاشرتی فیصلوں کی عمارت میں جگہ کیوں نہیں دی جاتی؟
اس کے ہاتھ پانی بھرنے سے پھٹ جاتے ہیں، مگر انگلیاں سونے کی انگوٹھیوں سے نہیں سجتیں۔ بوجھ اٹھاتے اٹھاتے اس کی کمر جواب دینے لگتی ہے، لیکن کوئی یہ پوچھنے کی زحمت نہیں کرتا کہ وہ تھکی ہوئی ہے یا اسے آرام کی ضرورت ہے۔ وہ بچے کو جنم دیتی ہے، بعض اوقات طبی سہولتوں اور تربیت یافتہ عملے کی عدم دستیابی میں، جہاں زچہ و بچہ کی صحت سنگین خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے۔ ایسے حالات میں زندگی اور موت کا معاملہ محض قسمت پر چھوڑ دینا کسی معاشرے کی کامیابی نہیں بلکہ بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں ہماری اجتماعی ناکامی ہے۔
المیہ اس وقت مزید سنگین ہو جاتا ہے جب عورت بیوہ ہو کر سماجی تنہائی کا شکار ہوتی ہے یا شادی جیسے مقدس رشتے کو بدلے، دباؤ اور تبادلے کی روایت میں بدل دیا جاتا ہے۔ بعض علاقوں میں خواتین کی مرضی کے بغیر شادیوں کے فیصلے کیے جاتے ہیں، گویا ان کی اپنی کوئی شخصیت، پسند یا خواہش موجود ہی نہیں۔ حالانکہ عورت کوئی مالِ تجارت نہیں کہ ایک خاندان سے دوسرے خاندان کے درمیان اس کا تبادلہ کیا جائے۔ وہ ایک مکمل انسان ہے، جسے عزت، تحفظ، رضامندی اور آزادانہ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ظلم سہنے والی عورت اکثر شکایت بھی نہیں کرتی۔ وہ کہتی ہے، ’’یہ ہمارا رواج ہے، یہی ہماری قسمت ہے۔‘‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر رواج مقدس نہیں ہوتا اور ہر صدیوں پرانی روایت انصاف کی ضمانت نہیں ہوتی۔ یہ نصیب نہیں، بلکہ وہ ناانصافی ہے جسے ہم نے روایت کا نام دے کر قبول کر لیا ہے۔ جب کسی انسان کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جائے اور اس محرومی کو تقدیر قرار دے دیا جائے تو دراصل ظلم کو
جواز فراہم کیا جاتا ہے۔ہماری مائیں اور بہنیں وہ ستون ہیں جن پر پورے خاندان کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ وہ دن بھر بوجھ اٹھاتی ہیں، مگر جب یہی ستون بیمار پڑ جائے تو گھر کا نظام لڑکھڑا جاتا ہے۔ اس کے باوجود ہم نے عورت کی محنت کو اکثر اس کی ذمہ داری سمجھا اور اس کی قربانی کو معمول کا حصہ بنا دیا۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ تعلیم یافتہ عورت صرف اپنا مستقبل نہیں سنوارتی بلکہ آنے والی نسلوں کی تربیت، صحت، معاشی ترقی اور سماجی شعور میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اگر عورت تعلیم سے محروم ہو، اسے صحت کی سہولتیں میسر نہ ہوں اور اس کی آواز فیصلوں میں شامل نہ کی جائے تو پورا قبیلہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتا ہے۔اسلام نے عورت کو عزت، وراثت اور نکاح میں رضامندی سمیت واضح حقوق عطا کیے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب مشہور ارشاد ہے، ، یعنی تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو۔ اس تعلیم کا تقاضا ہے کہ عورت کے ساتھ حسنِ سلوک محض زبانی دعویٰ نہ ہو بلکہ روزمرہ زندگی، خاندانی رویوں اور معاشرتی فیصلوں میں بھی نظر آئے۔ عورت کو وراثت سے محروم کرنا، اس کی مرضی کے بغیر شادی کرنا اور اس کی آواز دبانا نہ اخلاقی انصاف کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ ہی اسلامی تعلیمات کی روح سے۔قبائلی عورت کے مسائل کا حل صرف جرگوں، تقریروں اور وعدوں میں نہیں، بلکہ ان فیصلوں میں ہے جن میں عورت کی اپنی آواز شامل ہو۔ اگر جرگے عورت کے مسائل پر فیصلے کرتے ہیں تو خواتین کی نمائندگی، ان کی سلامتی اور ان کے حقوق کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ لڑکیوں کی تعلیم، بنیادی طبی مراکز، زچگی کی محفوظ سہولتیں، وراثتی حقوق کا تحفظ اور جبری شادیوں کی روک تھام ایسے اقدامات ہیں جن کے بغیر حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔ قبائلی روایات کی اچھی اقدار، مثلاً مہمان نوازی، وفاداری اور باہمی تعاون، قابلِ قدر ہیں، لیکن ان کے نام پر ناانصافی کو برقرار رکھنا کسی طور درست نہیں۔اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی خاموشی کو ان کی رضامندی نہ سمجھیں۔ ان کی محنت کو تسلیم کریں، ان کے حقوق ادا کریں اور انہیں اپنے مستقبل کے فیصلوں میں شریک بنائیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری ان محنت کش، صابر اور بے آواز ماؤں اور بہنوں کی محنت قبول فرمائے اور ہمیں ان کے حقوق ادا کرنے کی صحیح اور مکمل توفیق دے۔ آمین۔