لاہور میں اسموگ کی شدت بدستور برقرار ہے جس کی وجہ سے شہریوں میں مختلف بیماریوں کا پھیلاؤ تیز ہو گیا ہے۔ خاص طور پر گلاب دیوی اسپتال میں ناک، کان، گلے، آنکھوں اور سینے کے مریضوں میں دوگنا اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
اسپتال کی انتظامیہ کے مطابق اسموگ کی وجہ سے شہریوں کو سانس لینے میں مشکلات اور مختلف بیماریوں کا سامنا ہے۔ایم ایس گلاب دیوی اسپتال، ڈاکٹر حامد حسن کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں اسموگ سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 14 ہزار تھی، لیکن رواں سال یہ تعداد 30 ہزار سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ سپتال میں مریضوں کی لمبی قطاریں لگ رہی ہیں، اور مریضوں کو فوری علاج کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر حامد حسن نے بتایا کہ اسموگ کی شدت کے باعث ناک، کان، گلے، آنکھوں اور سینے کے مسائل بڑھ رہے ہیں اور طبی ماہرین کی جانب سے مسلسل احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔ مریضوں کا کہنا ہے کہ اسموگ کے دوران ماسک پہننا اور باہر نکلتے وقت احتیاطی تدابیر اپنانا انتہائی ضروری ہے تاکہ بیماریوں سے بچا جا سکے۔
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جب تک لاہور کی فضائی آلودگی میں کمی نہیں آتی، مریضوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ اسموگ سے بچاؤ کے لیے حفاظتی تدابیر اختیار کریں جیسے کہ ماسک کا استعمال، گھروں میں رہنا، اور کھڑکیاں بند رکھنا۔اس کے علاوہ، شہر میں فضائی آلودگی کی سطح بہت زیادہ ہے اور اس کا اثر شہریوں کی صحت پر منفی پڑ رہا ہے۔ لاہور میں اسموگ کی موجودہ صورتحال اور اس سے ہونے والی بیماریوں کے باعث طبی اداروں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔