لاہور میں اسموگ کی شدت برقرار ہے، اور فضائی معیار بھی خطرناک حد کے قریب پہنچ گیا ہے۔
محکمہ ماحولیات کی تازہ رپورٹ کے مطابق، دوپہر 12 بجے تک فضائی آلودگی کی سطح تشویشناک حد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔بھارت سے چلنے والی آلودہ مشرقی ہواؤں کے سبب لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 185 تک رہنے کا اندازہ ہے، جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔
مخصوص عوامل اور پیشن گوئیاں:
بھارت میں دیوالی کی تقریبات کے دوران شام کے اوقات میں فضائی آلودگی میں عارضی اضافہ متوقع ہے۔محکمہ ماحولیات اور ای پی اے (ایجنسی برائے ماحولیات) لاہور کی فضائی کیفیت کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔شہر کا درجہ حرارت 32 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے، اور ہواؤں کی رفتار 6 کلومیٹر فی گھنٹہ رہنے کا امکان ہے، جس میں وقفے وقفے سے معمولی تبدیلیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔کوئی بارش کی توقع نہیں ہے، لہٰذا قدرتی طور پر آلودگی میں کمی کا امکان کم ہے۔
وجوہات اور احتیاطی تدابیر:
کم رفتار ہوائیں، فضائی دباؤ اور درجہ حرارت میں تبدیلی ایئر کوالٹی انڈیکس میں اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں۔بعض علاقوں میں عارضی طور پر آلودگی کے پیچز بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔متعلقہ محکموں اور ماہرین نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ دھوئیں یا آلودگی کے غیر معمولی اخراج کی صورت میں فوری طور پر 1373 پر رپورٹ کریں۔ترجمان کے مطابق، ای پی اے مکمل طور پر انسدادِ اسموگ ایکشن پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنا رہا ہے۔