پنجاب کا تعلیمی بجٹ 364 ارب سے بڑھ کر 811 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان
لاہور (خصوصی رپورٹ) ملک بھر میں تعلیم کے شعبے پر سرکاری اخراجات میں گزشتہ چند برسوں کے دوران مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2019-20 سے 2025-26 تک تقریباً تمام صوبوں اور وفاق کی جانب سے تعلیمی بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتیں تعلیم کے شعبے کو مالی ترجیحات میں شامل رکھے ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق پنجاب اور سندھ نے آئندہ مالی سال 2025-26 کے لیے تعلیمی بجٹ میں نمایاں اضافہ تجویز کیا ہے۔ پنجاب میں تعلیمی اخراجات 364 ارب 94 کروڑ روپے سے بڑھ کر 811 ارب 7 کروڑ روپے تک پہنچنے کا تخمینہ ہے، جبکہ سندھ میں یہ رقم 169 ارب 25 کروڑ روپے سے بڑھ کر 654 ارب 17 کروڑ روپے تک جا سکتی ہے۔اسی طرح خیبر پختونخوا میں بھی تعلیمی بجٹ میں بتدریج اضافہ دیکھا گیا ہے اور یہ 164 ارب روپے سے بڑھ کر 397 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔ بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی تعلیم کے لیے مختص فنڈز میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔وفاقی سطح پر بھی تعلیمی اخراجات میں معتدل اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے لیے فنڈنگ میں اضافہ بتایا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق تعلیمی بجٹ میں اضافے کا رجحان مثبت ہے ، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن اور وفاقی محکمہ تعلیم پاکستان کی رپورٹ کے مطابق 2019-20 سے 2023-24 تک کے اخراجات کے اعداد و شمار فنانشل اکاؤنٹنگ اینڈ بجٹنگ سسٹم (FABS) سے لیے گئے ہیں، جبکہ 2024-25 اور 2025-26 کے تخمینے سالانہ بجٹ اسٹیٹمنٹس (ABS) پر مبنی ہیں۔