پیٹرولیم مصنوعات یا عوام کشی

 امجد علی 
ایران ، امریکہ اسرائیل جنگ اج آٹھویں روز بھی جاری رہی۔ یقیننا ہونے والے نقصان کا بڑا حصہ ایران  کے پلڑے میں آیا ہے ایرانی ٹاپ لیڈرشپ کی شہادت، ایرانی شہریوں کی شہادتیں اور ملک کے ہر شہر کا انفراسڑکچر بھی بہت تباہ ہوا ہے مگر ایسا نہیں کہ جنگ میں شریک دوسرے ممالک  بلکل محفوظ ہیں اسرائیل میں بھی ایرانی بموں نے تباہی مچائی ہے عرب ممالک میں امریکی اڈوں پر بھی کافی نقصانات ہوئے ہیں آبنائے ہرمز پر جہازوں کی آمد و رفت معطل ہونے کی وجہ سے یہ تباہی اب عالمی معیشت کو اپنے گھیرے میں لینا شروع ہو گئی ہے۔ ایسے میں ایران جنگ کی آڑ میں حکومت پاکستان نے عوام پر شب کی تاریکی میں پیٹرولیم مصنوعات میں پچپن روپے ریٹ بڑھا کر پیٹرول بم گرا دیا ہے۔ یہ راتوں رات عوام کی جیب پر 10800 ارب کا ڈاکہ ہے جبکہ  196 ارب لیٹر کے ذخائر موجود تھے ابھی تو خبریں آ رہی ہیں کہ ایل پی جی بھی 100 روپیہ kg ریٹ بڑھے گا۔ اور دیگر توانائی سے متعلق کاروباروں پر بھی پابندیاں یا بندشیں لگائی جا رہی ہیں۔ ریٹ ایکسپونینشیلی  بڑھ رہے ہیں۔ ایام عید پر جب مالی حالات پہلے ہی مخدوش ہو چکے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عوام کو بلاوجہ مفت کا مال سمجھ کر جسے، جب چاہا ذبح کر دیا جائے گا۔ مہنگائی کے اس طوفان میں عام آدمی پہلے ہی سانس لینے کو ترس رہا ہے، مگر فیصلہ سازوں کے ایوانوں میں شاید اس آہ و فغاں کی بازگشت سنائی نہیں دیتی۔ وہاں سب او کے کی صدائیں گونجتی ہیں۔  شاید انہوں نے اپنے دست مبارک سے اپنی پاکٹ سے معاملات/اخراجات گھر ( فائنانس) نہیں  چلایا جا اسے کوئی نادیدہ مخلوق چلاتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر اس مشکل وقت میں غیر ضروری اخراجات، فری مراعات اور بھتہ خور نظام کو بند یا کنڑول کر لیا جاتا تو حالات کو سنبھالنا زیادہ مشکل نہ تھا۔ مگر افسوس کہ حکومتی بجٹ میں کسی مد میں نمایاں کٹوتی نہیں کی گئی، سب کچھ جوں کا توں چل رہا ہے، اور اس کا بوجھ صرف پیٹرول اور روزمرہ اشیاء￿  کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر آگ صرف پیٹرول کو ہی کیوں لگتی ہے؟ کیا اس ملک کے شہریوں کو جینے کا حق نہیں؟

اہل اقتدار کو سب سے پہلے ملک اور عوام کے مفادات کو مدنظر رکھنا چاہیے، مگر صورتحال کچھ یوں ہے کہ ‘‘اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی’’ والی مثال سچ ہوتی نظر آتی ہے۔ حکمرانی اگر صرف مراعات کے تحفظ کا نام بن جائے اور عوام کو قربانی کا بکرا سمجھ لیا جائے تو پھر ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔

جنگ کے آثار تو سفارتی حلقوں میں جب سے زیر بحث تھے مگر حکومت نے پیشگی انتظامات کیوں نہ کیے گئے۔ ملکی سطح پر ٹریڈ کے سالانہ 
معاہدے ہوتے ہیں اس میں سب چیزیں بشمول باریک باریک نقاط طے ہوتے ہیں تو پھر کیسے جنگی حالات کا اثر سو فی یکمشت ڈائریکٹ عوام پر ڈالا گیا۔ اللہ سے بہتری کی امید رکھتے اور ایک مختصر سا تیل سپلائی میں تاخیر کا فیز تھا اسے مینج کیا جا جاتا تو حالات مختلف ہوتے۔ جس میں متعلقہ منسٹری اور حکام ناکام نظر آتے ہیں۔ بلکہ ایسا لگ رہا ہے کہ موقعہ سے فائیدہ اٹھانے یا کسی کو فائیدہ پہنچانے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔ اگر یہی وطیرہ رہا تو ذرا سوچئے… اگر خدانخواستہ حالات مزید بگڑ جائیں، عالمی جنگ کی آگ بھڑک اٹھے اور معیشت پر مزید دباؤ آ جائے تو کیا اس ملک کے شہری اپنے گھر، اپنی زمین اور اپنی عزت تک رہن رکھ کر زندہ رہیں گے؟ کیا یہی آزادی کے ثمرات ہیں؟

یہ لمحہ حکمرانوں کے لیے محض ایک معاشی فیصلہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی امتحان ہے۔ اگر اب بھی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے بجائے ان کا بوجھ کم نہ کیا گیا تو تاریخ بہت سخت سوال پوچھے گی۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ریاستیں صرف ٹیکسوں اور فیصلوں سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد سے چلتی ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ اہل اقتدار اپنی آنکھیں کھولیں، مراعات کے حصار سے باہر نکلیں اور عوام کی دھڑکن کو
 سنیں کیونکہ اگر عوام کا صبر ٹوٹ گیا تو پھر صرف پیٹرول ہی نہیں، پورا نظام ہی آگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ 
خدا نخواستہ ورلڈ وار تھری شروع ہو گئی تو کیا ہمیں اپنے گھر حکومت یا ساہو کاروں کے پاس گروی رکھنا ہو گا۔
یہ آزاد شہری کے حقوق پر کھلے عام ڈاکہ ہے۔۔ مقتدر نمائندوں سے اپیل ہے کہ اپنے بند کمروں سے باہر نکلیں سب اچھا ہے والے مشیروں سے کچھ رخصت لے لیں اور عوام کے اندر جائیں۔ ان کے درد، مجبوریوں اور احوال کا بھی احاطہ کریں تاکہ عوام دوست فیصلے کرنے میں آسانی ہو۔ یہی عوام ملک ہے حکومت ہے طاقت ہے ان کے نمائندے بنئیے نہ کہ قابض گرو۔۔

 اللہ کرے حکمران وقت پر ہوش کے ناخن لیں اور عوام کے لیے آسانیاں پیدا کریں اس سے یقیننا عوام اور حاکم طبقے کے درمیان حائل خلیج کچھ کم ہو سکے گی۔