ٹک ٹاکر فاطمہ جتوئی کی مبینہ ویڈیو وائرل، مداحوں میں ہنگامہ

ٹک ٹاکر فاطمہ جتوئی کی مبینہ ویڈیو وائرل، مداحوں میں ہنگامہ

سوشل میڈیا پر ٹک ٹاکر فاطمہ جتوئی سے منسوب ایک ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سامنے آیا ہے، جس نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

فاطمہ جتوئی نے اس ویڈیو کے حوالے سے واضح کیا کہ یہ مکمل طور پر جعلی ہے اور Artificial Intelligence (AI) کی مدد سے تیار کی گئی۔ ان کے مطابق ویڈیو میں دکھائے گئے مناظر اور حرکتیں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں، اور اس کا مقصد انہیں بدنام کرنا اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ویڈیو میں ان کے ہاتھ میں قرآن بھی دکھایا گیا، لیکن یہ سب فیک مواد ہے۔ٹک ٹاکر نے مداحوں اور سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کی کہ وہ ویڈیو کو شیئر نہ کریں بلکہ رپورٹ کریں اور افواہوں پر یقین نہ کریں۔

ڈیجیٹل سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں ڈیپ فیک اور AI سے تیار کیے گئے جعلی مواد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، اور یہ معروف شخصیات کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کے لیے بھی خطرہ بن چکے ہیں۔ ماہرین نے مشورہ دیا کہ متاثرہ فرد فوری طور پر ویڈیو یا مواد کو متعلقہ پلیٹ فارم پر رپورٹ کرے، ثبوت محفوظ کرے اور قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ اداروں سے رابطہ کرے۔

واضح رہے کہ اس خبر میں زیر گردش ویڈیو کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں، تاہم متاثرہ فریق یعنی فاطمہ جتوئی نے اسے جعلی قرار دیا ہے۔