لبنان میں 26 مہینوں سے جاری صدارتی بحران کے بعد نئے صدر کے انتخاب کے لیے مثبت پیش رفت کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق آرمی چیف جوزف عون کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا ہو رہا ہے، جبکہ حزب اللّٰہ کے امیدوار سلیمان فرنگیہ ممکنہ طور پر صدارتی دوڑ سے دستبرداری کا اعلان کر سکتے ہیں۔
حزب اللّٰہ کی حکمت عملی
فرانس سے خصوصی ایلچی جین ییولی ڈرین کی بیروت آمد نے سیاسی منظرنامے میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ ایلچی سے ملاقات کے بعد حزب اللّٰہ کے پارلیمنٹری گروپ کے نمائندے محمد رعد نے کہا کہ حزب اللّٰہ عوامی خواہشات کے خلاف نہیں جائے گی۔
جوزف عون کے حق میں حمایت
لبنانی میڈیا کے مطابق اگر حزب اللّٰہ اور امل کے اراکین آرمی چیف جوزف عون کی حمایت کرتے ہیں، تو 128 رکنی ایوان میں جوزف عون کو 95 ووٹ ملنے کے امکانات ہیں، جس کے بعد آئینی ترمیم کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
وزیرِ اعظم کا بیان
لبنان کے وزیرِ اعظم نجیب میکاتی نے صدارتی انتخاب کے حوالے سے امید ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "کل ان شاء اللّٰہ ہماری جمہوریہ کو نیا صدر مل جائے گا"۔
پس منظر
لبنان طویل عرصے سے سیاسی تعطل کا شکار ہے۔ اقتصادی بحران اور سیاسی اختلافات کے باعث صدر کے انتخاب میں تاخیر ہوتی رہی ہے۔ تاہم، موجودہ پیش رفت کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ ملک کو جلد نیا صدر ملے گا جو بحران کے حل میں کردار ادا کرے گا۔