بلال سعید، معروف پنجابی گلوکار، نے حال ہی میں ایک پروگرام میں انکشاف کیا کہ وہ حافظ قرآن ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے گلوکاری کو پیشہ کے طور پر اپنانا شروع کیا تو ان کے والد نے اس فیصلے کی حمایت کی، کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ بلال کسی موقع سے محروم رہیں۔ بلال نے کہا کہ سیالکوٹ میں اپنے قاری استاد کو گلوکاری کرتے نہ دیکھنے کی وجہ سے انہیں بعض اوقات عجیب سا محسوس ہوتا ہے۔بلال سعید نے بھارت کی بالی ووڈ انڈسٹری کے معاہدوں کی پیشہ ورانہ مہارت کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق بھارت میں، چاہے کوئی سپر اسٹار ہو یا جونیئر آرٹسٹ، تمام افراد اپنے معاہدوں کی پاسداری کرتے ہیں، جو کہ ایک اچھا اصول ہے۔ بلال نے پاکستانی انڈسٹری کو بھی اس طرز کے اصول اپنانے کی تجویز دی تاکہ پاکستان میں فنون کا مزید فروغ ہو سکے۔یہ انٹرویو بلال کے مداحوں کے لیے ایک نیا پہلو تھا، کیونکہ انہوں نے اپنی دینی تعلیم اور گلوکاری کی دنیا کے درمیان توازن کی بات کی۔