ایک گم شدہ سچ کی تلاش

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
اس بدلتی ہوئی فضاکی سب سے واضح علامت وہ حکمِ انخلا ہے جوعراق میں امریکی سفارت خانے نے جاری کیا ہے ،ایساحکم جو کسی تاخیرکامتحمل نہیں،بلکہ فوری اطاعت کاتقاضا کرتا ہے۔امریکی سفارت خانے کی تازہ ہدایات اس خطرے کی شدت کوعیاں کرتی ہیں:امریکی شہریوں کومتنبہ کیاگیاہے کہ وہ نہ صرف عراق چھوڑدیں بلکہ بغدادمیں واقع سفارت خانے اوراربیل میں قونصل خانے سے بھی دوررہیںکیونکہ یہ مقامات اب براہِ راست عسکری اہداف بن چکے ہیں۔یہ کیساالمیہ ہے کہ ایک ریاست اپنے شہریوں کواپنے ہی سفارتی مراکزسے دوررہنے کی تلقین کررہی ہے۔
واشنگٹن کاامریکی شہریوں کوفوری طورپرعراق چھوڑنے کی ہدایت نہ صرف ایک غیرمعمولی قدم ہے بلکہ امریکی سفارت خانے کی جانب سے فوری انخلاکا حکم اس بحران کی سنگینی کوعیاں اورمتکبر طاقت کی پسپائی کااستعارہ بھی ہے۔امریکی شہریوں کوہدایت دی گئی ہے کہ وہ فی الفورعراق چھوڑدیں۔ فضائی حدودبندہوچکی ہیں،اوراب خروج کاواحدراستہ خشکی ہے اردن،کویت،سعودی عرب یا ترکی کی جانب۔یہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں؛یہ اس حقیقت کااعلان ہے کہ فضابھی اب محفوظ نہیں رہی۔یہ ایک ایسااعتراف ہے جو کسی بھی سپر پاور کیلئے آسان نہیں ہوتا۔اس سے پہلے بھی انخلاکے اعلانات ہوتے رہے ہیں،مگراس بارمعاملہ مختلف ہے ۔یہ ایک غیر معمولی صورت حال ہے،جواس امرکی غمازہے کہ خطرہ محض خارجی نہیں بلکہ اندرونی بھی ہوچکاہے۔
یہ محض احتیاطی تدبیرنہیں،بلکہ ایک ہمہ گیرانخلاہے،اس اعتراف کے ساتھ کہ جس سرزمین پربرسوں سرمایہ کاری کی گئی،وہ اب مخالف قوتوں کامورچہ بن چکی ہے۔اطلاعات یہ بھی ہیں کہ بعض ریاستی عناصران حملوں کوروکنے کی بجائے سہولت فراہم کررہے ہیں؛دفاعی نظام عین اس وقت خاموش ہوجاتے ہیں جب ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے:کیا یہ سب محض اتفاق ہے، یاایک منظم حکمتِ عملی کاحصہ؟یہ وہ لمحہ ہے جہاں طاقتورریاستیں بھی اپنے قدم پیچھے کھینچنے پرمجبورہوجاتی ہیںاوریہی وہ لمحات ہیں جہاں تاریخ ان کے فیصلوں کامحاسبہ کرتی ہے،جہاں طاقتورریاستیں اپنی حدودکوتسلیم کرنے پرمجبورہوجاتی ہیںاوران کی اصل حیثیت سامنے آتی ہے۔
اگریہ صورت حال مزیدبگڑتی ہے تواس کے اثرات افغانستان سے بھی زیادہ سنگین ہوسکتے ہیں۔وہاں امریکی انخلاکے وقت جدیداسلحہ پیچھے رہ گیاتھا؛مگرعراق میں معاملہ اس سے کہیں بڑھ کرہے ،پیٹریاٹ میزائل سسٹمز،انٹیلی جنس ڈھانچے،ریڈا رتنصیبات،اورایک ایسا جغرافیائی محلِ وقوع جوبے حدقیمتی ہے۔اگریہ سب ہاتھ سے نکل گیاتویہ محض ایک عسکری نقصان نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے ایک تزویراتی سانحہ ہوگا۔
یہ بحران صرف خارجہ محاذتک محدود نہیں رہا،بلکہ اب اس کی بازگشت خودامریکاکے اندرسنائی دے رہی ہے۔امریکی سیاسی حلقوں میں ایک بے چینی،غیر معمولی اضطراب،اورایک گہری تشویش پائی جاتی ہے۔متعددامریکی رہنماخواہ وہ سابق عہدیداران ہوں یا موجودہ سیاسی شخصیات،کھلے عام اس امرکااظہارکررہے ہیں کہ موجودہ قیادت نہ صرف عالمی امن کیلئے خطرہ بن چکی ہے بلکہ خود امریکاکی ساکھ کوبھی مجروح کررہی ہے۔
ٹرمپ،جوخودکوایک مضبوط اورفیصلہ کن رہنماکے طورپرپیش کرتے ہیں،اب تنقیدکامرکزبن چکے ہیں۔خصوصاٹرمپ کی حالیہ تقریر جس سے دنیاکوامیدتھی کہ شاید وہ جنگ بندی کا اعلان کریں گے ،شایدوہ ایک نئے باب کاآغازکریں گے ،مگرایسا نہ ہوسکا۔ایک بار پھرمایوسی کاسبب بنی۔ان کے الفاظ میں امن کاذکر ضرورتھا،مگران کے اقدامات اس کے برعکس دکھائی دیے۔یہ وہ تضادہے جواب امریکی سیاست کامستقل وصف بنتاجارہاہے۔بین الاقوامی سیاست میں الفاظ کی اہمیت ہوتی ہے،مگراس سے کہیں زیادہ اہمیت عمل کی ہوتی ہے۔جب ایک ریاست اپنے وعدوں سے انحراف کرے،اپنے بیانیے سے پیچھے ہٹے،اوراپنے ہی اصولوں کی نفی کرے تویہ صرف سیاسی ناکامی نہیں بلکہ اخلاقی زوال کی علامت بن جاتاہے۔ٹرمپ کی تقریرمیں امن،مذاکرات اوراستحکام کی بات ضرورکی گئی مگرعملی اقدامات اس کے برعکس نظرآئے۔ ٹرمپ کی پالیسیوں میں یہ تضادنمایاں ہے اور یہی وہ تضاد ہے جواب امریکی سیاست کی پہچان بنتاجارہاہے۔
ایک طرف امن کی بات،دوسری طرف عسکری کارروائیاں؛ایک طرف مذاکرات کا اعلان، دوسری طرف پابندیاں اس دوغلے پن نے نہ صرف عالمی برادری کوششدرکردیاہے بلکہ امریکی عوام کوبھی ایک اخلاقی مخمصے میں مبتلاکردیاہے۔اورآج یہ دوغلاپن نہ صرف عالمی سطح پرامریکا کی ساکھ کومتاثرکررہاہے بلکہ اس کے اپنے عوام کوبھی مایوس کررہاہے۔ امریکی عوام،جوخودکوجمہوریت، انصاف اوراخلاقی برتری کاعلمبردارسمجھتے ہیں،اب ایک ایسے موڑپر کھڑے ہیں جہاں انہیں اپنے ہی نظام پرسوال اٹھانے پڑرہے ہیں۔
اس بحران کاسب سے فوری اورشدید اثرعالمی توانائی کی منڈی پرپڑاہے۔آبنائے ہرمزجودنیاکی توانائی کاایک اہم راستہ ہے ،اب عملی طورپربندہوچکی ہے۔اس بندش نے عالمی توانائی کی فراہمی کوشدیدمتاثرکیاہے اوراب اس بحران کاایک سنگین اورخطرناک پہلوعالمی توانائی کی منڈی۔آبنائے ہرمزکی بندش کے باعث روزانہ گیارہ ملین بیرل تیل عالمی منڈی سے غائب ہورہاہییہ مقدار ماضی کے بڑے تیل بحرانوں سے بھی دوگنی ہے۔قیمتیں آسمان کوچھورہی ہیں،اوراگریہ سلسلہ جاری رہاتوعالمی معیشت ایک نئے بھونچال سے دوچارہوسکتی ہے۔یہ صورت حال نہ صرف صنعتی ممالک کیلئے چیلنج ہے بلکہ ترقی پذیرممالک کیلئے ایک معاشی بحران بن چکی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ صورت حال ماضی کے بڑے توانائی بحرانوں سے بھی زیادہ سنگین ہے۔دنیابھرکی حکومتیں ہنگامی اقدامات کررہی ہیں کہیں ایندھن کی راشن بندی،کہیں قیمتوں پر کنٹرول،کہیں متبادل ذرائع کی تلاش کی طرف تیزی سے منتقل ہورہی ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ اس بحران نے ایک بارپھرریاستی کنٹرول کے رجحان کوتقویت دی ہے۔دنیابھرکی حکومتیں ہنگامی اقدامات کررہی ہیںکہیں ایندھن کی راشن بندی،کہیں قیمتوں پرقدغن،کہیں توانائی کے متبادل ذرائع کی جانب تیزرفتارپیش قدمی۔ریاستی کنٹرول کابڑھتاہوادائرہ۔ جب وسائل محدودہوتے ہیں،توریاستیں اپنے اختیارات کووسیع کرتی ہیں۔نقل وحرکت کی پابندیاں،توانائی کے استعمال پرقدغن،اور روزمرہ زندگی میں حکومتی مداخلت یہ سب اس نئے دورکی علامتیں ہیں اوریہ سب اس امرکی نشاندہی کرتے ہیں کہ بحران کے وقت ریاستیں کس طرح اپنے دائر اختیار کووسیع کرتی ہیں۔اس منظرمیں ایک عجب مماثلت وبائی دور سے بھی جھلکتی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اس بارخطرہ ایک وائرس نہیں بلکہ ایک جغرافیائی وسیاسی تصادم ہے۔نقل وحرکت کی پابندیاں،ریاستی ہدایات پرانحصار،اور روزمرہ زندگی کانظم ونسق حکومتی فیصلوں کے تابع ہوگیا ہ یجوبعدازاں فسطائیت کاراستہ بھی اختیارکرسکتاہے جوانسانیت کیلئے ایک اوربڑا عذاب بن سکتاہے۔
جہاں بیشترممالک قلیل مدتی حل تلاش کررہے ہیں،وہیں برطانیہ نے اس بحران کوایک طویل مدتی موقع کے طورپرلیاہے۔متبادل توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف پیش قدمی، جیسے شمسی توانائی اورہیٹ پمپس،ماحولیاتی پالیسیوں کانفاذ،اورتوانائی کی خودکفالت کی کوششوں کولازمی قراردے کروہ ایک طویل مدتی تبدیلی کی راہ ہموارکررہاہے۔دیگرممالک بھی اپنے اپنے اندازمیں اس بحران سے نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں۔یہ وہ اقدامات ہیں جومستقبل کی سیاست کونئی جہت دے سکتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیایہ تبدیلی اتنی تیزہو سکتی ہے کہ موجودہ بحران پراثر اندازہو؟
جوکچھ آج ہورہ ہے وہ محض ایک خلل اوربحران نہیں یہ ایک ازسرِنوتعمیراورایک نئی عالمی ترتیب کی تشکیل ہے۔امریکاکی تزویراتی برتری چیلنج ہورہی ہے،ایران کی حکمت عملی اپنے نتائج کے لحاظ سے کامیاب دکھائی دے رہی  ہے،اورعالمی نظام ایک نئے توازن کی تلاش میں ہے۔عالمی توانائی کانظام، جس پردہائیوں سے انحصارتھا،بکھررہاہے۔مشرقِ وسطیٰ میں امریکاکی بنائی ہوئی تزویراتی عمارت دراڑوں کاشکارکسی بھی وقت دھڑن تختہ ہوسکتاہے اور بغداد،تہران،واشنگٹن اوربیجنگ میں ہونے والے فیصلے آنے والی دہائی کی سمت متعین کریں گے۔
یہ وہ لمحہ ہے جہاں فیصلے صرف حکومتیں نہیں کررہیںاورتاریخ لکھی نہیں جارہی بلکہ تشکیل پارہی ہے اورخوداپنے لیے ایسا راستہ چن رہی ہے جہاں مستقبل میں ایسے حالات پیدانہ ہوں کہ فردِواحدکے ہاتھ میں دنیا کی تقدیرکے فیصلے لکھنے کی طاقت ہو۔اور شایدسب سے اہم سوال یہی ہے،کیادنیااس نئے راستے کیلئے تیا ہے؟یہ وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ کا شاید سب سے اہم سوال یہی ہے،کیا انسانیت اس نئی دنیاکیلئے تیارہے؟