ایک گم شدہ سچ کی تلاش

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
یہ وہ ساعتِ نازک ہے جس کے دہانے پرکھڑے ہوکرانسان کویوں محسوس ہوتاہے جیسے تاریخ اپنی کروٹ بدلنے کوہے ۔ایک ایسا موڑ،جہاں واقعات محض خبریں نہیں رہتے بلکہ زمانے کی تقدیرلکھتے ہیں۔دوستو!جس موضوع پرہم گفتگوکرنے جارہے ہیں،وہ اس تنازع کاایک حقیقی نقطہ انقلاب ہے؛اوراس سے پہلے کہ ہم اس کے باطن میں اترکراس کے تہہ درتہہ حقائق کوآشکار کریں،یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ کوئی قیاس آرائی یابے بنیادگمان نہیں۔جوکچھ پیش کیاجارہاہے،وہ مستندذرائع سے اخذکردہ ہے اورہم آپ کواس کے ایک ایک پہلوسے روشناس کرائیں گے۔
تاریخ کے وسیع وعریض کینوس پربعض اوقات ایسے مناظرابھرتے ہیں جومحض واقعات نہیں ہوتے بلکہ تہذیبوں کے سفرمیں سنگِ میل کادرجہ رکھتے ہیں۔اورتاریخ کے اوراق میں بعض لمحات ایسے بھی ہوتے ہیں جومحض واقعات نہیں ہوتے بلکہ عہدسازموڑبن جاتے ہیں ایسے موڑجہاں طاقت کے توازن بدلتے ہیں،بیانیے ٹوٹتے ہیں،اورحقیقت اپنے تمام ترجلال کے ساتھ نقاب الٹ دیتی ہے۔یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب طاقت کے ایوان لرزتے ہیں،جب فیصلے تقدیربن جاتے ہیں،اورجب قوموں کی حکمتِ عملیوں کااصل چہرہ بے نقاب ہوتا ہے۔آج کاعالمی منظرنامہ بھی کچھ ایساہی ہے۔ہم ایک ایسے ہی لمحہ انقلاب سے گزررہے ہیں، جہاں مشرقِ وسطی کی سرزمین ایک بارپھرعالمی سیاست کے دھارے کونئی سمت دینے کیلئے آمادہ دکھائی دیتی ہے اورایک ایسامنظرجہاں مشرقِ وسطی کی خاک آلود سرزمین ایک بارپھرعالمی سیاست کے دھارے کوموڑنے جارہی ہے۔
یہ بحران کسی ایک ملک،ایک خطے یاایک وقتی تصادم تک محدودنہیں رہا،بلکہ اب یہ ایک ہمہ گیرتغیرکی صورت اختیارکرچکاہے ۔ایک ایساتغیرجس نے نہ صرف امریکاکی عالمی برتری کوچیلنج کیاہے بلکہ اس کے اخلاقی جوازکوبھی سوالیہ نشان بنادیاہے۔یہ بحران وقتی نہیں،بلکہ تدریجی ارتقاکانتیجہ ہے ،ایساارتقاجوبرسوں سے خاموشی کے پردے میں پنپ رہاتھااور اب ایک طوفان کی صورت اختیارکرچکاہے۔اس طوفان نے نہ صرف امریکاکی عسکری برتری کوچیلنج کیاہے بلکہ اس کے اخلاقی جوازکو بھی متزلزل کردیاہے۔
صورتِ حال اس نہج پرپہنچ چکی ہے جہاں واشنگٹن کی گرفت ڈھیلی نہیں بلکہ تقریباٹوٹ چکی ہے۔اس بحران کامرکزایک ایسااتحادی ہے جس پرامریکانے اپنے علاقائی وجودکی بنیاد رکھی تھیاورعجب ستم یہ کہ عین اس لمحے جب اسے اس اتحادی کی سب سے زیادہ ضرورت تھی،وہی ہاتھ اس کے خلاف اٹھ کھڑاہوا۔امریکاکی نگاہ سے دیکھاجائے تویہ ایک ایسادھوکہ ہے جس کاشائبہ تک نہ تھا؛مگر ایران،جوصبروتدبرکی طویل حکمتِ عملی پرکاربندرہا،شاید مدتوں سے اس گھڑی کامنتظرتھا۔
یہ وہی عراق ہے جس پرامریکانے دودہائیوں تک اپنی توانائیاں،اپنے وسائل اوراپنی حکمتِ عملی نچھاورکی۔2003میں امریکانے عراق پرحملہ کیاایک ایساحملہ جسے دنیاکے سامنے مہلک ہتھیاروںکے جوازاورایک ناگزیراقدام کے طورپرپیش کیاگیا۔دلیل یہ دی گئی کہ عراق کے پاس ایسے مہلک ہتھیارموجود ہیں جوعالمی امن اورانسانیت کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں۔یہ بیانیہ اس شدت سے پھیلایاگیاکہ عالمی ضمیراس کے زیرِاثرآگیا۔عالمی میڈیانے اس بیانیے کواس شدت سے فروغ دیاکہ دنیاکی بڑی تعداداس فریب کوحقیقت سمجھ بیٹھی۔ مگرجب جنگ کی دھول بیٹھی،توحقیقت کاچہرہ بالکل مختلف تھا۔نہ کوئی جوہری یامہلک ہتھیارملا،نہ کوئی فوری خطرہ، نہ کوئی عالمی خطرہ البتہ تیل کے بے پایاں ذخائر ضرور ریافت ہوئے جس کیلئے ایک ہنستا، وشحال ریاستی ڈھانچہ ملبے میں تبدیل ہوچکاتھا۔ 
اس کے بعدامریکانے عراق کوازسرِنوتعمیر کرنے اوراپنے سانچے میں ڈھالنے کامہنگاترین منصوبہ شروع کیا ایک ایسا منصوبہ جس پرکھربوں ڈالرصرف کیے گئے،جس میں فوجی تربیت سیاسی نظام کی تشکیل،اورسفارتی ڈھانچے کی تعمیرشامل تھی۔ کھربوں ڈالر خرچ کرکے ایک نئی فوج تشکیل دی گئی؛سیاسی ڈھانچہ ازسرِنوبنایاگیا؛اوربغدادمیں دنیاکاسب سے بڑاسفارت خانہ تعمیرکیاگیا۔یہ سب اخراجات عراق کے تیل کے ذخائرسے پورے کئے گئے۔اس بات کی علامت تھاکہ عراق امریکاکیلئیمحض ایک اتحادی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹیجک ستون تھا۔یہ سب کچھ اس یقین کے ساتھ کیاگیاکہ عراق ایک وفاداراتحادی بنے گا لیکن آج، یہی ستون نہ صرف لرزرہاہے بلکہ خوفناک دراڑوں کاشکارہیاوروہ سرمایہ،وہ عسکری قوت،وہ سیاسی ڈھانچہ،سب اسی طاقت کے خلاف کھڑے دکھائی دیتے ہیں جس نے انہیں تشکیل دیاتھا۔اطلاعات یہ ہیں کہ وہی اڈے جوامریکانیاپنے دفاع کیلئے تیارکئے،اب امریکی افواج پرحملوں کیلئیاستعمال ہورہے ہیں،اوروہی عناصر جنہیں تربیت دی گئی،دشمن کونشانے فراہم کررہے ہیں۔تاریخ نے ایک بارپھر ثابت کیاکہ قوموں کی وفاداریاں محض جبراورطاقت کی دھونس سے نہیں خریدی جاسکتیں۔
جہاں امریکانے طاقت،سرمایہ اورعسکری برتری پرانحصارکیا،وہیں ایران نے ایک مختلف راستہ اختیارکیا ایک ایساراستہ جوبظاہر سست مگراندر ے نہایت مضبوط تھا۔خاموش،تدریجی اورتہذیبی اثرورسوخ پرمبنی۔ایران نے عراق میں نہ صرف مذہبی وثقافتی روابط کو مضبوط کیابلکہ سماجی اورخاندانی سطح پربھی اپنی جڑیں گہری کیں۔ایران نے اربوں ڈالرکے معاہدوں سے نہیں،بلکہ تہذیبی رشتوں، مذہبی وابستگیوں،خاندانی تعلقات اورخاموش دراندازی کے ذریعے عراق کیاداروں میں اپنی موجودگی مضبوط کی۔ایران نے عراق میں ثقافتی،مذہبی اورسماجی روابط کوفروغ دیا۔جب واشنگٹن عظیم الشان عمارتیں تعمیرکررہاتھا،تہران دلوں میں گھرکررہاتھااوراب یہ خاموش جدوجہداپنے نتائج دکھارہی ہے۔یہ بحران ایک اور حقیقت کو بھی بے نقاب کررہاہے کہ وفاداریاں محض سرمایہ کاری سے نہیں خریدی جاسکتیں۔امریکانے عمارتیں بنائیں،ایران نے رشتے بنائے۔ایک نے ڈھانچہ کھڑاکیا،دوسرے نے دلوں میں جگہ بنائی ،اعتمادپیدا کیا،اورایک ایسا نیٹ ورک قائم کیاجووقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوتاگیا۔یہ حکمتِ عملی کسی فوری نتیجے کی متقاضی نہیں تھی بلکہ یہ صبر تسلسل اور تدبر کا تقاضاکرتی تھی اورآج،جب حالات بدل رہے ہیں،تو یہی حکمتِ عملی اپنااثردکھارہی ہے۔یہ وہ جنگ تھی جو بندوقوں سے نہیں،تعلقات سے لڑی گئی اورآج اس کے نتائج پوری شدت کے ساتھ سامنے آرہے ہیں۔عراق کی سیاسی قیادت،اس کے سکیورٹی ادارے،اور اس کے داخلی فیصلے اب اس اثرسے آزادنہیں رہیاورتاریخ گواہ ہے کہ آخرکارفیصلہ دل ہی کرتے ہیں، دیواریں نہیں۔
عراق کی موجودہ پالیسی خصوصا ًاس کی خاموشی ایک گہرا پیغام رکھتی ہے۔بغدادکی خاموشی جوبظاہر سکوت ہے ،درحقیقت ایک فیصلہ ہے۔عراق کی سیاسی قیاد  ت خصوصاًوزیر اعظم ایسی قوتوں کے زیرِاثر ابھری ہے جن کی جڑیں تہران سے جاملتی ہیں۔عراق کی طرف سے نہ کوئی مذمت آئی،نہ تحقیق کااعلان،نہ امن کی اپیل اور جولوگ علاقائی سیاست کے رموز سے واقف ہیں،وہ جانتے ہیں کہ بعض اوقات خاموشی ہی سب سے بلنداعلان ہوتی ہے ایسااعلان جسے زبان پرلانا شاید ممکن نہ ہو،مگرجس کے اثرات ناقابلِ انکارہوتے ہیں۔ علاقائی سطح پرجب عراق سے مطالبہ کیاگیا کہ وہ اپنی سرزمین سے ہونے والے حملوں کی مذمت کرے،توبغداد کی خاموشی نے سب کچھ کہہ دیا۔نہ کوئی بیان،نہ کوئی تردید،نہ کوئی اقدامیہ وہ خاموشی ہے جودراصل ایک اعلان ہے،ایک ایسااعلان ج زبان پرنہیں آتا مگرحالات میں جھلک جاتاہے۔یہ سکوت دراصل اس حقیقت کامظہرہے کہ عراق اب اس راستے پرگامزن ہوچکاہے جہاں سے واپسی آسان نہیں۔
جب عرب دنیانے اس سے مطالبہ کیاکہ وہ اپنی سرزمین سے ہونے والے حملوں کی مذمت کرے،تو اس نے سکوت اختیار کیا۔یہ سکوت محض خاموشی نہیں بلکہ ایک فیصلہ ہے ایسا فیصلہ جسے زبان پرلانا شاید ممکن نہ ہو،مگرجس کے اثرات واضح ہیں۔یہ خاموشی اس امرکی علامت ہے کہ عراق اب ایک نئے راستے پرگامزن ہوچکاہے ایساراستہ جہاں اس کی ترجیحات بدل چکی ہیں،اوراس کی وفاداریاں نئی سمت اختیارکررہی ہیں۔
گزشتہ بہترگھنٹوں میں امریکی اہداف پرحملوں میں جوشدت آئی ہے،وہ کسی اتفاق یاحادثے کانتیجہ نہیں معلوم ہوتی۔ایران نے کھلے عام ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے،اور ریاستی ذرائع ابلاغ نے انہیں ایک منظم عسکری حکمتِ عملی کاحصہ قراردیاہے۔جوکبھی باغی گروہوںکی کارروائی سمجھی جاتی تھی،اب ایک مربوط فوجی مہم کے طورپر سامنے آ رہی ہے جس میں عراقی اورایرانی قوتیں بظاہر ایک ہی صف میں دکھائی دیتی ہیں۔(جاری ہے)