روس کا یوکرین پر اب تک کا سب سے بڑا فضائی حملہ، 4 افراد ہلاک، درجنوں زخمی

روس کا یوکرین پر اب تک کا سب سے بڑا فضائی حملہ، 4 افراد ہلاک، درجنوں زخمی

کیف: روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت کئی شہروں پر تاریخ کا سب سے بڑا فضائی حملہ کیا، جس میں 4 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

حملے کے نتیجے میں سرکاری دفاتر اور بلند عمارتیں شدید متاثر ہوئیں جبکہ کیف میں کابینہ کے دفاتر پہلی بار براہِ راست نشانے پر آئے۔یوکرینی حکام کے مطابق روس نے ایک ہی رات میں 810 ڈرون اور 13 میزائل داغے، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔ ان حملوں میں سرکاری دفاتر آگ کی لپیٹ میں آگئے، کئی رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا، ایک حاملہ خاتون زخمی ہوئیں جنہوں نے قبل از وقت بچے کو جنم دیا، جبکہ گھڑ سواری کلب میں سات گھوڑے ہلاک ہو گئے۔یوکرینی فضائیہ نے کہا کہ بیشتر ڈرون مار گرائے گئے، تاہم حملوں کی شدت کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ یہ حملے جنگ کو طول دینے کی کوشش ہیں۔

دوسری جانب عالمی رہنماؤں نے روسی حملوں کی مذمت کی۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے یوکرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا، جبکہ یورپی یونین نے روس پر سفارت کاری سبوتاژ کرنے کا الزام عائد کیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ماسکو پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ روس کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔یاد رہے کہ روس اس وقت یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قابض ہے اور جنگ کے نتیجے میں ہزاروں افراد جاں بحق جبکہ لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔