پیپلز پارٹی کا رویہ غیرسیاسی ، معمولی جواب پر رو پڑتے ہیں :عظمیٰ

سندھ کسی وڈیرے کی جاگیر نہیں جسے آپ ہر فورم پر سندھو دیش کہتے ہیں 
 آج بھی بات چیت سے مسائل حل کرنے کو تیارہیں :وزیراطلاعات پنجاب
 لاہور (خصوصی رپورٹ)وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے پی پی رہنماو ں کے بیانات پر ردعمل میں کہا ہے کہ ایک طرف وہ سیز فائر کی بات کرتے ہیں، دوسری طرف ہر گھنٹے بعد ہوائی فائرنگ کرنے آجاتے ہیں۔ شعلے اگلتی زبانوں کے ساتھ ہم سے سیز فائر کی امید کیسے رکھی جا سکتی ہے؟ ،اس دوہرے رویئے سے مفاہمت کا کوئی سنجیدہ پیغام نہیں ملتا ،روزانہ جسے دیکھو وہ جھاڑ پونچھ کر گھر سے نکلتا ہے، مائیک کے سامنے بیٹھ کر گالیاں اور الزامات کی بوچھاڑ شروع کر دیتا ہے، جب ہم معمولی سا جواب دیں تو وہ رونے بیٹھ جاتے ہیں، یہ رویہ سیاسی بلوغت کے منافی ہے، ہم آج بھی بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کیلئے تیار ہیں۔اپنے ایک بیان اور ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما ہمیں جمہوریت کے لیکچر نہ دیں، جمہوریت کے بوجھ کو انہوں نے کبھی اپنے نازک کندھوں پر نہیں اٹھایا، یہ بوجھ ہماری قیادت اور کارکنوں نے برسوں اٹھایا ہے، اگر آپ دن رات ہماری لیڈرشپ پر حملے کریں گے تو کیا ہم آپ کے گلے میں پھولوں کے ہار پہنائیں گے؟۔ یہ ہماری لیڈرشپ اور پارٹی کی اعلیٰ ظرفی ہے جو ذاتی حملوں کے باوجود خاموشی اور برداشت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کسی وڈیرے کی جاگیر نہیں جسے وہ ہر فورم پر سندھو دیش کہہ کر پیش کرتے ہیں، پنجاب کے خلاف زبانی گولہ باری اور نفرت آمیز بیانیے سے باز آنا ہوگا، ہم سیاسی اختلاف کو محاذ آرائی میں نہیں بدلنا چاہتے، لیکن یکطرفہ حملوں پر مسلسل خاموشی ممکن نہیں۔ عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت سیلاب متاثرین کی بحالی کے کاموں پر اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر رہی ہے لیکن بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے بلاجواز الزام تراشی اور صوبائیت کا کارڈ کھیلنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب کسی محاذ آرائی کا حصہ بنا ہے اور نہ بنے گا، ہمارا فوکس صرف متاثرین کی مدد اور بحالی ہے۔ حالیہ دنوں میں پنجاب حکومت اور وزیراعلیٰ پنجاب پر سندھ سے تعلق رکھنے والے رہنمائوں کی جانب سے بے بنیاد حملے کئے جا رہے ہیں