برطانیہ: مسجد میں بچے پر تشدد کے الزام میں استاد کی برطرفی

برطانیہ: مسجد میں بچے پر تشدد کے الزام میں استاد کی برطرفی

برطانیہ کے ایک سیکنڈری اسکول نے مسجد میں ایک بچے کے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اپنے استاد کو برطرف کر دیا ہے۔

یہ ویڈیو گزشتہ رات فیس بک کمیونٹی گروپ میں پوسٹ کی گئی تھی، جس میں ایک شخص کو کم عمر بچے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اور مبینہ طور پر اسے تھپڑ مارتے ہوئے دیکھا گیا۔ ویڈیو پوسٹ کرنے والے گمنام شخص نے دعویٰ کیا کہ ویڈیو میں نظر آنے والا شخص بیٹلی کے ایک ہائی سکول کا استاد ہے، جو صرف لڑکوں کا سیکنڈری اسکول ہے جس میں تقریباً 800 طلباء زیرِ تعلیم ہیں۔پوسٹ میں کہا گیا کہ استاد نے کم عمر طالب علم پر تشدد کیا اور اسے دھمکیاں بھی دیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق اَپر بیٹلی ہائی اسکول نے اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر کارروائی کی اور مذکورہ شخص کو برطرف کر دیا۔ اسکول نے اس بارے میں متعلقہ حکام کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔

اسکول کے ترجمان نے کہا کہ جیسے ہی ہمیں اس واقعے کی اطلاع ملی، ہم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ شخص کو ملازمت سے برخاست کر دیا اور حکام کو اس بارے میں آگاہ کر دیا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ یہ واقعہ ہمارے اسکول میں پیش نہیں آیا، لیکن اس قسم کا رویہ ہمارے اصولوں اور اقدار کے خلاف ہے اور ناقابلِ قبول ہے۔ اسکول نے اپنی ترجیح میں طلباء کی صحت، حفاظت اور معیاری تعلیم کو اولیت دی۔مقامی پولیس اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔