دلچسپ معاشی آئینہ

حافظ محمد اقبال
قومی اقتصادی سروے 26-2025 ایک بار پھر ایسے اعداد و شمار لے کر سامنے آیا ہے جنہوں نے بظاہر تو ایک ‘‘خاموش معاشی ترقی’’ کی تصویر پیش کی ہے، مگر غور کیا جائے تو یہ تصویر اتنی سادہ نہیں جتنی پہلی نظر میں لگتی ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ ملک میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں، بھینسوں، گائے، بکریوں، بھیڑوں اور اونٹوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، اور لائیو اسٹاک کے شعبے نے 3.8 فیصد ترقی دکھائی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے، خچر 2 لاکھ 21 ہزار، گھوڑے 3 لاکھ 86 ہزار، بھینسیں 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہیں، گائے 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہیں، بکریاں 9 کروڑ 18 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہیں، جبکہ بھیڑیں اور اونٹ بھی مسلسل اضافہ دکھا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ماہی گیری کے شعبے میں بھی 1.7 فیصد اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔بظاہر یہ سب ایک مثبت خبر ہے۔ ایک ایسا ملک جو معاشی دبائو، مہنگائی اور توانائی کے بحران سے گزر رہا ہو، وہاں اگر لائیو اسٹاک بڑھ رہا ہے تو اسے زرعی معیشت کی مضبوطی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ اضافہ خوشحالی کی علامت ہے، یا یہ اس معیشت کی وہ تصویر ہے جو انسانی ترقی کے بجائے بقا کی سطح پر کھڑی ہے؟پاکستان کی معیشت میں لائیو اسٹاک ہمیشہ ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا رہا ہے۔ دیہی معیشت کا بڑا حصہ مویشی پالنے پر انحصار کرتا ہے، اور لاکھوں گھرانے دودھ، گوشت اور جانوروں کی پیداوار سے وابستہ ہیں۔ لیکن جب ہم گدھوں اور خچروں کی تعداد میں اضافہ دیکھتے ہیں تو یہ محض زرعی ترقی کا اشاریہ نہیں رہتا، بلکہ یہ ایک علامت بن جاتا ہے کہ ملک میں روایتی اور کم آمدنی والے ٹرانسپورٹ اور مزدوری کے ذرائع اب بھی کتنے مضبوط ہیں۔گدھا پاکستان کے دیہی اور نیم شہری معاشی ڈھانچے میں آج بھی ایک ‘‘خاموش مزدور’’ ہے۔ جہاں جدید مشینری نہیں پہنچتی، وہاں یہی جانور معیشت کو چلانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ گدھوں کی تعداد میں اضافہ بظاہر معمولی لگتا ہے، مگر یہ اس بات کی علامت بھی ہو سکتا ہے کہ مشینی معیشت کی توسیع اتنی تیز نہیں ہو سکی جتنی ہونی چاہیے تھی۔اسی طرح خچروں اور گھوڑوں کی موجودگی ہمیں اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ پاکستان کے کئی علاقوں میں آج بھی جدید ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر مکمل طور پر متبادل فراہم نہیں کر سکا۔ پہاڑی علاقے، دیہی راستے اور کم ترقی یافتہ علاقے آج بھی روایتی ذرائع آمدورفت پر انحصار کرتے ہیں۔اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو لائیو اسٹاک کی مجموعی ترقی (3.8 فیصد) پاکستان کے زرعی ڈھانچے میں ایک تسلسل کی نشاندہی کرتی ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ ترقی زیادہ تر ‘‘قدرتی اضافہ’’ ہے، نہ کہ کسی بڑی اصلاحاتی پالیسی یا جدید سرمایہ کاری کا نتیجہ۔پاکستان میں زراعت اور لائیو اسٹاک کا شعبہ اکثر اوقات حکومتی پالیسیوں میں ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔ بڑے ترقیاتی منصوبے صنعت، ٹیکنالوجی یا تعمیرات کے گرد گھومتے ہیں، جبکہ دیہی معیشت اپنی رفتار سے چلتی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جانوروں کی تعداد میں اضافہ تو نظر آتا ہے، مگر پیداواریت (productivity) اور ویلیو ایڈیشن (value addition) میں وہ ترقی نہیں دکھائی دیتی جو کسی

 جدید معیشت کی پہچان ہوتی ہے۔مثال کے طور پر بکریاں اور گائے بڑھ رہی ہیں، مگر کیا دودھ کی پروسیسنگ، برآمدات اور جدید ڈیری انڈسٹری اسی رفتار سے ترقی کر رہی ہے؟ بھیڑیں بڑھ رہی ہیں، مگر کیا اون کی صنعت میں کوئی انقلابی بہتری آئی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو اعداد و شمار کے پیچھے چھپ جاتے ہیں۔پاکستانی معیشت کی ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ یہاں ترقی اکثر ‘‘اعداد کی حد تک’’ زیادہ اور ‘‘حقیقت کی سطح پر’’ کم نظر آتی ہے۔ جانوروں کی تعداد بڑھنا ایک مثبت اشارہ ضرور ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس سے عام آدمی کی آمدنی، خوراک کی قیمتوں اور معیارِ زندگی میں کوئی واضح بہتری آئی ہے؟مہنگائی کے موجودہ دور میں دیہی معیشت پر دبائو بھی بڑھا ہے۔ چارے کی قیمتیں، جانوروں کی دیکھ بھال کے اخراجات اور بیماریوں کے مسائل کسانوں کے لیے پہلے سے زیادہ چیلنجنگ ہو چکے ہیں۔ ایسے میں جانوروں کی تعداد میں اضافہ خوشحالی کے بجائے بعض اوقات مجبوری کی علامت بھی بن جاتا ہے—کہ کسان پرانے وسائل کے ساتھ ہی زیادہ محنت کرنے پر مجبور ہے۔ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں لائیو اسٹاک نہ صرف معیشت بلکہ سماجی ڈھانچے کا بھی حصہ ہے۔ دیہی ثقافت، روایات اور روزگار کے نظام میں یہ جانور ایک مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن جدید دنیا میں اس شعبے کی اصل اہمیت تب بڑھتی ہے جب اسے صنعتی بنیادوں پر استوار کیا جائے، نہ کہ صرف روایتی سطح پر چھوڑ دیا جائے۔اگر ہم اس رپورٹ کو ایک جملے میں سمیٹیں تو کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا لائیو اسٹاک بڑھ رہا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ساتھ ساتھ ‘‘انسانی معیشت’’ بھی اسی رفتار سے بڑھ رہی ہے؟یہ اعداد و شمار ہمیں ایک آئینہ دکھاتے ہیں—ایک ایسا آئینہ جس میں ترقی بھی نظر آتی ہے اور جمود بھی۔ مسئلہ یہ نہیں کہ گدھے، گھوڑے یا بکریاں بڑھ رہی ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ کیا ہم اس اضافے کو جدید معیشت میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی معیشت آج ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں روایتی ترقی اور جدید تقاضوں کے درمیان فاصلہ بڑھ رہا ہے۔ اور شاید یہی وہ فاصلہ ہے جو ہر سال آنے والے ایسے اقتصادی سروے ہمیں خاموشی سے یاد دلاتے ہیں