مسئلہ ریاست کی ساکھ کا ہے

 امجد علی
لاہور میں درج ہونے والے دو غیر ملکی خواتین کے مقدمے نے ایک بار پھر پاکستان کے نظام انصاف کو عالمی توجہ کا مرکز نگاہ بنا دیا ہے۔ مقدمہ کیا ہے، اس کا فیصلہ عدالت کرے گی۔ الزامات درست ہیں یا بے بنیاد، اس کا تعین بھی تفتیش اور عدالتی کارروائی کرے گی۔ لیکن ایک سوال ایسا ہے جو کسی فیصلے کا محتاج نہیں، کیا اس مقدمے کی تحقیقات عام شہری اور طاقتور خاندان کے فرد کے لیے ایک ہی معیار پر ہو رہی ہیں یا کی جا سکیں گی؟
متاثرہ خواتین نے مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے تحت اپنا  بیان ریکارڈ کرا دیا ہے۔ ان بیانات میں اغوا، جسمانی تشدد اور جنسی زیادتی جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔ قانون کا تقاضا ہے کہ ایسے بیانات کو پوری سنجیدگی سے لیا جائے، کیونکہ دو ریاستوں کے مابین ایک شہری کے حقوق کی ذمہ داری اور حفاظت  کا ہے اس لیے تمام شواہد جمع کیے جائیں، فرانزک، ڈیجیٹل ریکارڈ، سفری تفصیلات، مالی لین دین، کرپٹو ٹرانزیکشنز اور تمام متعلقہ افراد کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے۔ اگر الزامات ثابت ہوں تو قانون پوری طرح حرکت میں آئے، اور اگر بے بنیاد ہوں تو ملزمان کو قانون کے مطابق بری کیا جائے۔ انصاف صرف سزا دینے کا نام نہیں، بلکہ بے گناہ کو باعزت بری کرنا بھی انصاف ہے۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ ملزمان کو لاک اپ میں ڈالا جائے ای سی ایل فہرست میں شامل کر کے مکمل تحقیق کر کے اصل حقائق تک پہنچا جائے۔، کیا ریاست خود کو یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گی کہ قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے؟ دوسری طرف کیا اگر کسی عام بندے کا کیس ہو تو پولیس والے سارے گھر والوں کو دھر لیتے ہیں عوامی سطح پر اس ظلم و جبر کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے ادارے کی طرف سے خاموشی سادھ لی جاتی ہے تب قانون کی مثبت تشریح والے وزراء￿  لمبی خاموشی کیوں اختیار کرتے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں عوام کا اعتماد اس لیے متزلزل ہوا ہے کہ ماضی میں طاقتور خاندانوں کے مقدمات اور عام شہریوں کے مقدمات ایک جیسے انجام تک نہیں پہنچے۔ اسی عدم اعتماد نے ہر نئے مقدمے کو شکوک و شبہات میں لپیٹ دیا ہے۔ سیاسی شخصیات کی اپنی فیملی سے متعلق معاملات کو اپنے حق میں صفائی کے ساتھ مینج کرنے کے واقعات بھی پاکستانی تاریخ میں بھرے پڑے ہیں۔یہاں اصل امتحان صرف رضا ڈار کا نہیں، بلکہ ریاست کا ہے۔اگر واقعہ کرپٹو کاروبار کے تنازع سے جڑا ہوا ہے تو اس کی بھی مکمل چھان بین ہونی چاہیے۔ اگر مالی لین دین ہوا ہے تو اس کے شواہد سامنے آنے چاہییں۔ لیکن اگر اسی مقدمے میں جنسی تشدد اور اغوا کے الزامات بھی موجود ہیں تو انہیں صرف "کرپٹو تنازع" کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہر الزام کو الگ الگ قانونی معیار اور دائرے میں رکھ کر پرکھنا ہوگا۔یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ دنیا پاکستان کو کس زاویے سے دیکھے گی۔ کیا بیرونی دنیا سرکاری بیانات پر اکتفا کرے گی، یا اپنے سفارت خانوں، آزاد میڈیا، بین الاقوامی تنظیموں اور تحقیقاتی ذرائع سے بھی حقائق معلوم کرے گی؟ آج کے ڈیجیٹل دور میں کسی واقعے کو محض بیانیے سے دفن کرنا ممکن نہیں رہا۔ اس صورت میں سامنے آنے والے حقائق پاکستانی کی سفارتی سطح پر باعث شرمندگی ہونگے۔