نیا سال مزید بھاری ہوگا، قبر ایک اور مردے تین ہیں:شیخ رشید

نیا سال مزید بھاری ہوگا، قبر ایک اور مردے تین ہیں:شیخ رشید

شیخ رشید احمد، جو کہ سابق وفاقی وزیر داخلہ ہیں، نے انسداد دہشتگردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے غریبوں کی رہائی کی اپیل کی اور ان کے خراب حالات پر تشویش کا اظہار کیا۔

 انہوں نے کہا کہ "جو لوگ جیل میں ملاقات نہیں کروا سکے، وہ ملاقات کیا کرائیں گے؟" اور مزید کہا کہ ان کی جیل میں موجودگی کے باوجود ان کے کیسز میں کسی طرح کی پیشرفت نہیں ہو رہی، وہ کئی سالوں سے مختلف کیسز میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان کے پاس اس بات کا کوئی حل نہیں ہے۔شیخ رشید نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جب غریبوں کو معاف کرنے کی بات آتی ہے تو بڑے لوگوں کو غریبوں کے حالات کو سمجھ کر انہیں معاف کر دینا چاہیے، کیونکہ ان کے حالات بہت خراب ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ جیل میں ملاقاتیں کرنے کے لیے پیسہ نہیں دے پاتے، ان کے لیے ملاقاتوں کا کوئی امکان نہیں ہے، لیکن اگر پیسے دیے جائیں تو ملاقاتیں ہو جاتی ہیں، اس پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سسٹم غریبوں کے لیے سخت ہے اور اس میں کوئی عدلیہ کی طرف سے تبدیلی کی امید نظر نہیں آتی۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ان کا خیال ہے کہ نئے سال میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئے گی، اور اس کے بجائے مزید مشکلات کا سامنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ "قبر ایک ہے اور مردے دو نہیں، بلکہ تین ہیں"، اس کا مطلب یہ تھا کہ پیپلز پارٹی اور ان کے رہنماؤں کو اب کوئی اہمیت نہیں مل رہی اور وہ تبدیلی کی امید میں غلط ہیں۔اس کے علاوہ، شیخ رشید نے کہا کہ جو لوگ جیل میں ملاقات کے دوران تاریخوں کی تبدیلی کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ان سے مذاکرات کی کامیابی کی کوئی توقع نہیں کی جا سکتی۔ آخر میں، انہوں نے غریبوں کی رہائی کے حوالے سے ایک اور اپیل کی، اور کہا کہ "خدا کے لیے، غریبوں کو چھوڑ دو، کیونکہ بہت بے گناہ لوگ جیلوں میں ہیں۔"