عمران خان کا دستاویزات پر دستخط کا معاملہ؛ وکیل کا سپرنٹنڈنٹ جیل کو قانونی خط

عمران خان کا دستاویزات پر دستخط کا معاملہ؛ وکیل کا سپرنٹنڈنٹ جیل کو قانونی خط

اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے قانونی دستاویزات، بالخصوص سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے پاور آف اٹارنی پر دستخط کروانے کے معاملے نے نئی کشیدگی پیدا کر دی ہے۔

اس سلسلے میں عمران خان کے وکیل خالد یوسف چوہدری نے سپرنٹنڈنٹ جیل ساجد بیگ کو ایک قانونی خط ارسال کیا ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ پاور آف اٹارنی پر دستخط نہ کروانے سے بانی پی ٹی آئی کے بنیادی آئینی حقِ رسائی برائے انصاف میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔خالد یوسف چوہدری کے مطابق:وہ 27 مارچ اور 2 اپریل کو خود اڈیالہ جیل پہنچے، مگر جیل عملے کی جانب سے تاخیری حربے استعمال کیے گئے اور پاور آف اٹارنی عمران خان کے سامنے پیش نہیں کی گئی۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے یہ دستاویز ناگزیر ہے، اور بروقت دستخط نہ ہونے کی وجہ سے قانونی مدت ختم ہونے کا خطرہ ہے۔خط میں سپرنٹنڈنٹ جیل کی کارکردگی پر سنگین بدانتظامی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام عائد کیا گیا۔

وکیل نے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات پنجاب اور پولیس صدر سرکل راولپنڈی کو بھی معاملے سے آگاہ کر دیا ہے اور قانونی و محکمانہ کارروائی کی درخواست کی ہے۔خالد یوسف چوہدری نے مطالبہ کیا کہ 24 گھنٹوں کے اندر پاور آف اٹارنی عمران خان کے سامنے پیش کی جائے اور دستخط شدہ دستاویزات فوری طور پر وکیل کے حوالے کی جائیں، بصورت دیگر قانونی کارروائی کی جائے گی۔یہ معاملہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جیل میں قانونی رسائی اور شہری حقوق کے تحفظ کے حوالے سے تناؤ برقرار ہے، اور سیاسی رہنما کی قانونی ٹیم عدالت کے ذریعے فوری مداخلت کی توقع رکھتی ہے۔