ادینہ سہیل
طلوع آفتاب کے وقت طائرن خوش الحان کی چہچاہٹ اور ہر طرف بکھرے گلوں کی خوشبو انسان کو بیدار کرنے کا باعث بنتی ہے- صبح سے محنت و مشقت میں مصروف انسان جب رات کو بستر پر لیٹتا ہے تو تھکن سے چور ہونے کے باوجود اسے نیند نہیں آتی- نیند کے بجائے اسے ماضی کے دکھ درد گھیر لیتے ہیں، وہ خنجر جو بشر سے امید لگانے پر پیٹھ پہ گھونپے گئے تھے- لوگوں سے ملے ہوئے وہ غم اس کی روح کو ایک بار پھر اذیت پہنچانے لگتے ہیں- وہ وقت تازہ ہو جاتا ہے جب اپنوں نے اسے بے سہارہ کر دیا ہوتا ہے- سفر آغاز میں ہاتھ تھامنے والے عزیز ہی اسے بیچ راستے میں تنہا چھوڑ جاتے ہیں- پھر سب سہنے کے بعد بندے کی عقل اس بات کو تسلیم کر لیتی ہے کہ انسانوں کی چاہتوں میں شدت سدا نہیں رہتی- اور دنیا کا ہر تعلق مسافرانہ ہے،اصل میں ہر شخص میں ایک نیا انسان چھپا ہوتا ہے، ہم سب کو اپنا سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ کوئی بھی اس دنیا میں اپنا نہیں ہوتا -کچھ اپنا ظرف دکھا کر چھوڑ جاتے ہیں تو کچھ موت کی آغوش میں سو جاتے ہیں- انسان اس دنیا میں ہمیشہ کے لیے کسی کے ساتھ نہیں رہ سکتا کیونکہ زندگی کسی کی وفادار نہیں ہوتی، اور پھر بشر کی اپنی حیات بھی تاحیات تھوڑی ہے- انسان سب کچھ گواہ کر بھی اس شخص کو نہیں روک سکتا جس کی موت کا وقت آگیا ہو - بے شک ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا پڑتا ہے- اس دنیا کے اداکاروں سے امیدیں لگانا محض بے وقوفی ہوتی ہے مگر ہم پھر بھی اس فریبی دنیا دل لگا لیتے ہیں- بشر سے امیدیں انسان کو ذلیل و رسوا کرواتی ہیں جبکہ رب سے امید عزت دار بناتی ہے-
---
انسان کو جتنا دکھ ملا ہے اس سے کئی زیادہ سکھ ملے گا، اگر ابھی مشکلات کا اندھیرا ہے تو کل معجزوں کا اجالا بھی ہوگا، اگر اللہ نے وہ لے لیا ہے جسے کھونے کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے تو وہ یقینا کچھ ایسا بھی دے گا جسے پانے کا تم نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا- یہ زندگی جو زخموں سے بھری پڑی ہے اس کا علاج تہجد میں پوشیدہ ہے- وہ گھڑی جب نصیب چمکتے ہیں، تب کچھ لوگ تکے پر سر رکھے سو رہے ہوتے ہیں ،سونے والے خواب ہی دیکھتے رہ جاتے ہیں، جبکہ جاگنے والے تعبیر بھی پا لیتے ہیں- تہجد میں مانگی دعائیں کبھی رائیگاں نہیں جاتی بلکہ اللہ انہیں کن کے فضل سے نوازتا ہے- لیکن تھوڑے تحمل سے کام لینا پڑتا ہے کیونکہ دعاؤں کی قبولیت کے دروازے صبر کی چابی سے کھلتے ہیں - تہجد تک انسان خود نہیں آتا بلکہ یہ محبت ہے اللہ کی جو انسان کو تہجد تک لے کر آتی ہے کیونکہ اللہ تعالی نے بندے کی دعاؤں پر کن کی مہر لگانی ہوتی ہے- بس یہی سوچ انسان کو تہجد کے لیے کھڑا کر دیتی ہے -
دعا کے لیے ہاتھ اٹھتے ہیں اور آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، انسان زادو قطار رونا شروع ہو جاتا ہے اپنی خطاؤں پر، اپنے گناہوں پر، اپنی لغزشوں پر، ان لمحات پر جب اس کا شمار گمراہوں میں ہوتا تھا- جب وہ رب کی طرف سے میسر کردہ آسائشوں کو اپنا حق کہتا تھا- کوئی موجود نہیں تھا اس وقت اس کو سننے کے لیے سوائے اللہ کے, وہ رب اتنا رحیم ہے جو ساتویں آسمان سے پہلے اسمان پر تشریف لاتا ہے صرف بند کی پکار سننے کے لیے, درحقیقت پوری کائنات میں کوئی اتنا انتظار نہیں کرتا جتنا رب کریم اپنے بندے کی توبہ کا کرتا ہے- زبان سے لفظ نہیں ادا کیا گیا مگر دل میں موجود دعائیں اللہ نے سن لی، بندے کی آہیں رب تک پہنچا دی گئیں، دعاؤں کی قبولیت کے لیے کیا جانے والا انتظار دراصل ہمارے صبر کا امتحان ہوتا ہے اور ممکن ہے کہ جس کے لیے ہم تڑپ رہے ہوں وہی ہمارے صبر کا انعام بن جائے- یقینا تہجد سفر ہے "کن سے فیکن تک" لہذا انسان کو چاہیے کہ وہ اگر مگر اور کاش میں لپٹی زندگی کو چھوڑ کر صرف اللہ پر توکل کرے, اور اسی معبود حقیقی سے امیدیں رکھے اور دعائیں کرے اور یقین رکھے کہ جس نے مقدر لکھا ہے وہ اس کو بدلنے کی قدرت بھی رکھتا ہے اور اللہ جو کرتا ہے بہترین کرتا ہے-
ختم شد