منبر،اقتداراورحساب

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
انتظامی اثرورسوخ کے باب میں اصل معاملہ ضیاالرحمان کے سابقہ فنی منصب سے صوبائی انتظامیہ میں آنے اوربعدازاں ڈپٹی کمشنر بننے کے طریق کارپراعتراض کرتاہے۔اسی طرح ایک بھائی کے سیاحتی ادارے کی سربراہی کے دوران مبینہ طورپراستحقاق سے باہر سرکاری گاڑی حاصل کرنے اورواپس نہ کرنے کاالزام بھی درج ہے۔ان معاملات کا منصفانہ فیصلہ تقرری کے احکامات،متعلقہ قواعد، گاڑی کی منظوری اورواپسی کے ریکارڈسے ہوگا۔اگراثرورسوخ کے ذریعے قواعد سے تجاوزثابت ہوتواسے سیاسی ضرورت یامذہبی وجاہت کی اوٹ نہیں دی جاسکتی۔عوامی منصب امانت ہے؛اس سے پیداہونے والی سہولت کوخاندانی استحقاق سمجھ لینااسی امانت کی روح کومجروح کرتاہے۔اس صورت حال کا علاج شخصی طعنہ نہیں،قابل جانچ طریق انتخاب ہے۔جماعت بتائے کہ امیدوارکس اصول پرچنے گئے،مخصوص نشستوں کیلئے ترجیح کیسے قائم ہوئی،تنظیمی عہدے کیسے تقسیم ہوئے اورانتظامی تقرری میں اہلیت کامعیارکیاتھا۔شفاف طریقہ ہوتوالزام کاجواب آسان ہوتاہے؛طریقہ پوشیدہ ہوتوشبہ جڑپکڑتاہے۔قومی سیاست کاوقاراسی میں ہے کہ کسی شخص کی قربت،عوام کے حق پر فوقیت نہ پائے۔
اکابرِدیوبندسے نسبت کے اظہارپرتفاخرمولاناکاحق ہے تاہم تقابل تاریخی اورانتخابی احتیاط چاہتاہے۔دیوبندکے2022کے اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کی کامیابی اورعمیر مدنی کے3501ووٹ،نے دیوبندجماعت کی قلعی کھول دی ہے۔مجوزہ حلقہ میں مسلمانوں کی تقریبا ًسترفی صد آبادی اوربرجیش سنگھ سے منسوب دیوبندکانام بدلنے کے اعلان کا حوالہ بھی یادرکھناہوگا۔اسی طرح کسی دوسرے ملک میں مسلمانوں کودرپیش مشکلات پاکستان میں شہری آزادی محدودکرنے کی دلیل نہیں بن سکتیں۔اپنے وطن کی قدرکابہتراظہاریہ ہے کہ یہاں قانون،مذہبی آزادی اورحقِ اختلاف زیادہ محفوظ ہوں۔پاکستان سے محبت کامطالبہ اس کے شہریوں کے احترام کے ساتھ زیادہ مثرہوتاہے ۔قومی تعلق احسان گنوانے سے کمزوراورعدل سے مضبوط ہوتاہے۔زیادہ بامعنی سوال یہ ہے کہ پاکستان میں حاصل اظہار،نمائندگی اور سیاسی اثرکی قدرقیادت کے طرزِعمل میں کس قدرنظرآتی ہے،اس کابھی توکوئی جواب ملناچاہئے۔
حکومت سازی میں اپنی ناگزیریت جتانے والی سیاست،خواہ کسی بھی جماعت کی ہو،آخرکارجمہوری شراکت کوشخصی قوت کے مظاہرے میں بدل دیتی ہے۔مولاناسے منسوب یہ دعویٰ کہ ان کے بغیرحکومت بن نہیں سکتی اوربن جائے توچل نہیں سکتی،اسی سیاسی خوداعتمادی کااظہارسمجھاجاتاہے؛مگرقومی ریاست کسی رہنماکی شرکت یامحرومی سے اپنی قدرنہیں پاتی۔حکومت سے اختلاف کیجیے، مقتدراداروں کے فیصلوں پرگرفت کیجیے اوراپنے حقوق کیلئے پوری قوت سے آوازاٹھائیے؛البتہ اعتراض کاہدف اورزبان واضح رکھیے۔ پاکستان میں میسرسیاسی گنجائش کی قدراوراس کی خامیوں کی نشاندہی ساتھ ساتھ چل سکتی ہیں۔ریاست کی تحقیرسے منسوب کلمات کی وضاحت اسی لیے ضروری ہے کہ شخصی ناراضی،مشترک قومی وجودکی بے توقیری میں تبدیل نہ ہو۔
کشمیرسے متعلق پارلیمانی ذمہ داریوں کااعتراض جذباتی وزن رکھتاہے۔یہ ایساقومی مسئلہ ہے جس کے ساتھ خاندانوں کی جدائیاں،انسانی حقوق کے سوالات اورخطے کے مستقبل کی تشویش وابستہ ہے۔اس موضوع پرکسی منصب کی قدراعزازات اورملاقاتوں کی تصاویرسے متعین نہیں ہونی چاہیے۔سوال یہ ہوناچاہیے کہ ذمہ دارقیادت نے دستیاب اختیارکو کس نتیجے میں بدلا۔منصفانہ احتساب کیلئے کمیٹی کے اجلاس،سفارشات،مالی اخراجات،غیرملکی رابطے اورمتعلقہ وزارتوں کی پیروی کاریکارڈسامنے آنا چاہیے۔پھرمعلوم ہوسکے گا کہ کہاں کام ہوا،کہاں اختیارمحدودتھااورکہاں ذمہ داری پوری نہیں ہوئی۔بجٹ کے استعمال کے بارے میں سخت زبان اختیارکی گئی ہے۔تحقیق کاتقاضاہے کہ مالی بے ضابطگی کا فیصلہ مستندحساب،جائزے یامتعلقہ قانونی کارروائی کی بنیادپرہو۔ بدعنوانی کاغیرثابت شدہ الزام اصل ناکامیوں کی نشان دہی کوبھی کمزورکردیتاہے۔عوام کونعرے سے زیادہ حساب چاہیے؛اورقومی خدمت کادعوی اسی حساب میں اپنی قدرپاتاہے۔اسی لیے احتساب کامعیارسب کیلئے یکساں ہوناچاہیے۔مذہبی رہنماہویاکسی دوسری جماعت کاعہدیدار ، عوامی وسائل کے استعمال پرایک ہی سوال اٹھنا چاہیے:کس اختیار کے تحت، کس ضرورت کیلئے،کتنی مدت تک؟جب سوال اصولی ہوتواسے مخالفت کہہ کرٹالنامشکل ہوتاہے۔
حج جیسے مقدس سفراوربیرون ملک قیام میں سرکاری وسائل کے استعمال پربھی امانت وجوابدہی کایہی اصول نافذہوتاہے۔اگرکسی عہدے داریااس کے ہم سفروں کے شخصی اخراجات سرکاری وفد،سفارتی میزبانی یاقومی خدمت کے نام پرخزانے سے اداکیے گئے ہوں توان کی منظوری،ضرورت اوراستحقاق کی تحقیق ہونی چاہیے۔قرآن امانتیں حقداروں تک پہنچانے کاحکم دیتاہے اوراسراف سے روکتاہے؛ چنانچہ عوامی مال کوبلااستحقاق شخصی آسائش کیلئیاستعمال کرنااسلامی امانت داری کے منافی ہے۔تاہم کسی معین شخص پراس اصول کااطلاق ثابت شدہ حقائق کی بنیادپرہوگا۔مذہبی مرتبہ جوابدہی سے استثنانہیں دیتا،بلکہ احتیاط کی ذمہ داری بڑھاتاہے۔عبادت کی عظمت اپنی جگہ،اس کے اخراجات کا جائز ہوناایک الگ اخلاقی تقاضاہے۔(النسا:؛الاعراف)
یادرہے کہ ان اخراجات کے حوالے سے پاکستانی سفارت خانہ دوران حج کی میزبانی،رفقائے سفرکی خاطرتواضع اورمتعلقہ سفری سہولتوں کے وہ تمام واقعات اورمیرے علم کے مطابق ،ان کی تفصیلات پاکستان کے اہم اخبارات میں بھی شائع ہوئیں اوران کی کوئی تردید آج تک سامنے نہیں آئی۔اصل اخلاقی سوال اپنی جگہ قائم ہے:اگرشخصی آسائش کے اخراجات بلااستحقاق قومی خزانے پرڈالے گئے توان کاجوازکیاتھا؟عوامی مال امانت ہے؛مذہبی وجاہت اس امانت کی جوابدہی کوکم نہیں کرتی،مزیدگراں باربناتی ہے۔ 
ایران کے دورے سے متعلق تنازعے میں دوالگ امورہیں:وفدکی تشکیل پرسوال اٹھانے کاحق،اورکسی غیرثابت شدہ مقصدکوقطعی حقیقت بناکرپیش کرنا۔وزیرداخلہ کے بیرونی دورے میں شامل ہونے کی وجہ دریافت کرناپارلیمانی نگرانی کاحصہ ہوسکتاہے۔حکومت کوبھی ممکنہ حدتک واضح جواب دیناچاہیے تاکہ قیاس آرائی کی جگہ معلوم حقیقت لے سکے۔ محسن نقوی نے اپنے بیان میں کہاکہ وہ وزیراعظم کی خصوصی ذمہ داری پرایران گئے تھے اوردورہ کسی دفاعی معاہدے کیلئے نہیں تھا۔یہ حکومتی وضاحت ہے،جسے اسی حیثیت سے درج کرناچاہیے۔اگرکسی رہنماکے پاس اس کے خلاف دستاویزی شہادت ہوتواسے متعلقہ پارلیمانی طریقے سے پیش کیاجاسکتاہے۔ خارجہ تعلقات کی حساسیت غیرذمہ دارانہ قیاس سے احتیاط چاہتی ہے،لیکن حساسیت مستقل خاموشی کانام بھی نہیں۔حکومت کی معقول وضاحت اورحزب اختلاف کامستندسوال،دونوں ریاستی اعتمادکوتقویت دے سکتے ہیں ۔ خرابی تب پیداہوتی ہے جب سوال کوتضحیک اور جواب کودھمکی بنادیاجائے۔
اس پورے تنازعے کاحاصل کسی ایک شخصیت کی تحقیرنہیں ہوناچاہیے۔مولانافضل الرحمان پرلازم ہے کہ ریاست سے منسوب متنازع کلمات کا پوراسیاق واضح کریں اوراپنی سیاسی کارکردگی پراٹھنے والے جائزسوالات کاریکارڈکے ساتھ جواب دیں۔وزیرداخلہ کی ذمہ داری ہے کہ سخت اختلاف میں بھی منصب کی متانت برقراررکھیں اوراپنے الزامات کوقابل جانچ شواہدتک محدودرکھیں۔مذہبی سیاست کواپنے اخلاقی دعووں کاثبوت جماعتی شفافیت میں دیناہوگا۔ریاستی اداروں کواپنی غیرجانبداری یکساں قانونی عمل سے دکھاناہوگی۔اہل قلم پربھی فرض ہے کہ وہ پسندیدہ استدلال کی خاطر غلط دعوے کوجگہ نہ دیں۔قلم جب تحقیق سے بے نیازہوجائے تواس کی فصاحت بھی انصاف کی کمی پوری نہیں کر سکتی۔وطن ایک مشترک امانت ہے۔اس امانت کااحترام زبان کی شائستگی،اختیارکی جوابدہی اورشہری کے وقارسے ظاہرہوتاہے۔سیاسی اختلاف کودلیل کی زبان ملے تو وہ اصلاح کاوسیلہ بنتاہے؛ ذاتی غصے اورغیرثابت شدہ الزام کے سپردہوتوقومی اعتمادزخمی ہوتاہے۔پاکستان کی سیاست کوآج اسی ضبط کی ضرورت ہے جس میں حق بات پوری قوت سے کہی جائے،مگرکسی کے حق پرحرف نہ آئے۔