منبر،اقتداراورحساب

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
پاکستان کی سیاسی زندگی میں بعض اوقات ایک جملہ وہ گرداٹھادیتاہے جس میں اصل مسئلے کی صورت بھی دھندلاجاتی ہے۔ایوان کی گفتگوجلسے کاآہنگ اختیارکرتی ہے،اختلاف الزام میں ڈھلتاہے،اورقومی بحث شخصی رنجشوں کی نذرہونے لگتی ہے۔مولانافضل الرحمان کے ریاست سے متعلق متنازع کلمات،محسن نقوی اورخواجہ آصف کے سخت ردعمل نے بھی ایسے ہی بنیادی سوالات پیداکیے ہیں:ریاست اورحکومت میں کیافرق ہے؟مذہبی قیادت کی سیاسی ذمہ داری کہاں سے شروع ہوتی ہے؟قومی مناصب پرفائزرہنے والوں سے کارکردگی کاحساب کیسے لیاجائے؟اورقانون کی عمل داری کوسیاسی انتقام کے شبہے سے کیسے محفوظ رکھاجائے؟
ان سوالات کاجواب محض کسی شخصیت کی حمایت یامخالفت میں نہیں ملتا۔اس کیلئے تاریخ کی شہادت،واقعات کی تحقیق اوراخلاقی میزان،تینوں درکارہیں۔حالیہ سیاسی مرکزی اضطراب قابل فہم ہے:جس سیاسی قیادت نے پاکستان کے ایوانوں،اداروں اورحکومتی بندوبست میں طویل عرصہ حصہ لیاہو،اس سے ریاست کے بارے میں شائستگی اورذمہ داری کاتقاضازیادہ ہوناچاہیے۔تاہم اس استدلال کی قوت اسی وقت قائم رہتی ہے جب تنقیدتحقیق کی حدمیں رہے اورالزام،ثبوت کاقائم مقام نہ بنے۔اکتوبر2026کے اواخرمیں سامنے آنے والے اس تنازعے کی اخباری تفصیلات سے معلوم ہوتاہے کہ وزیرداخلہ نے سینیٹ میں مولاناسے منسوب ریاست کی تحقیرپرمبنی الفاظ پرشدیداعتراض کیا۔ 
ریاست کسی وزیر،جماعت یامقتدرشخصیت کادوسرا نام نہیں۔وہ شہریوں کے مشترک سیاسی وجود،قومی خوداختیاری،ادارہ جاتی تسلسل اورباہمی حقوق وذمہ داریوں کاوسیع بندوبست ہے۔حکومت اس بندوبست کے اندراختیارپاتی ہے اوراپنی مدت پوری کرتی ہے؛ریاست نسلوں کے درمیان قائم رہنے والاعہدہوتی ہے۔اسی لیے حکومت کی غلطی پرگرفت اور ریاست کی تحقیرایک جیسی چیزیں نہیں۔ان کے درمیان فرق مٹ جائے توحکمران اپنی کوتاہیوں ک قومی وقا کی اوٹ میں چھپانے لگتے ہیں،جبکہ مخالفین اپنے سیاسی غصے میں اجتماعی وجودہی کومجروح کرنے لگتے ہیں۔
اگر مولانافضل الرحمان کے الفاظ فی الواقع ریاست کی تذلیل پرمحمول ہوتے ہیں توان سے وضاحت کامطالبہ درست ہے۔دینی علم اور طویل پارلیمانی تجربہ رکھنے والے رہنماسے توقع ہوتی ہے کہ وہ غصے میں بھی تعبیرکادامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔ لفظ محض آواز نہیں؛صاحبِ اثرکی زبان سے نکل کروہ اجتماعی رویہ بن جاتاہے۔جس رہنماکے گردعقیدت کا حلقہ ہو،اس کے کلام کی ذمہ داری بھی معمول سے بڑھ جاتی ہے۔تاہم ریاستی احترام کااصول شہری حقِ سوال کوساقط نہیں کرتا۔کوئی شخص سرکاری منصب پررہ چکاہوتواس کی ہر آئندہ تنقیدناشکری قرارنہیں پاتی۔عوامی عہدہ ریاست کی عطاکردہ شخصی جاگیرنہیں،ایک ذمہ داری ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ اعتراض دلیل پرقائم ہے یا مفادکی محرومی پر؛اورجواب قانون وکارکردگی سے دیاجارہاہے یامنصب کے رعب سے۔سیاسی بلوغت اسی امتیازکی حفاظت کانام ہے۔
مذہب سے وابستہ سیاسی قیادت اپنے لیے جس اخلاقی مرتبے کادعوی کرتی ہے،اسے اسی کے مطابق جواب دہ بھی ہوناچاہیے۔جب کوئی جماعت عدل،دیانت اوراسلامی نظام کی بات کرتی ہے توعوام اس کی جماعتی زندگی،مالی معاملات اورتقرریوں میں بھی ان اقدارکی جھلک تلاش کرتے ہیں۔یہ توقع بے جانہیں۔منبرسے دی گئی نصیحت اگراقتدارکے دروازے پراپنی معنویت کھودے توسب سے زیادہ نقصان مذہبی اعتمادکوپہنچتاہے۔اس موضوع پرعوام اورپارلیمنٹ میں مذہب کوسیاسی منفعت کیلئے استعمال کرنے کاالزام نمایاں ہے۔ایساالزام محض خطیبانہ شدت سے ثابت نہیں ہوتا،مگراس کے پیچھے موجودسوال اہم ہے:کیاجماعت کے فیصلے واضح اصولوں کے تابع ہیں؟کیااتحاداورعلیحدگی کی وجوہ عوام کے سامنے رکھی جاتی ہیں؟کیاجماعتی کارکن اپنی قیادت سے سوال کرسکتے ہیں؟کیامالی وسائل کے استعمال کی قابل اعتمادتفصیل موجودہے؟
یہ معیارصرف مذہبی جماعتوں کیلئیمخصوص نہیں ہوناچاہیے۔البتہ مذہبی قیادت کیلئے اس سے گریززیادہ دشوارہے،کیونکہ وہ سیاسی کامیابی کے ساتھ اخلاقی رہنمائی کی دعوے داربھی ہوتی ہے۔اسلامی سیاسی اخلاق میں منصب امانت ہے؛امانت کی تکمیل محض اسے حاصل کرنے سے نہیں،اس کاحساب دینے سے ہوتی ہے۔جس سیاست میں قربانی کارکن کا مقدراورآسودگی چندخاندانوں کاحصہ بن جائے، وہاں اصلاح کاسوال ضروراٹھے گا۔
یادرہے کہ قوم ابھی تک مولانا کے اس تلخ جملے کوبھول نہیں پائی کہ’’ہمارے اکابرین پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں تھے‘‘۔ تاریخی تحقیق یہاں زیادہ باریک نظرچاہتی ہے۔ دیوبندی علمی روایت،برصغیرکی آزادی اورتقسیم کے سوال پریکساں سیاسی مقف نہیں رکھتی تھی۔مولاناحسین احمدمدنی اورجمعیت علمائے ہندمتحدہ قومیت کے حامی تھے،جبکہ مولانا شبیراحمدعثمانی نے مسلم لیگ اورقیام پاکستان کی حمایت کی۔عثمانی1945میں قائم ہونے والی جمعیت علمائے اسلام کے نمایاں قائدبنے۔لہذاپوری روایت کوقیام پاکستان کی مخالفت کے ایک خانے میں رکھناتاریخی تنوع کونظراندازکرناہے۔ 
متحدہ قومیت کے حامی ایک جغرافیے میں مختلف مذہبی برادریوں کی مشترک سیاسی زندگی کاامکان دیکھتے تھے؛پاکستان کے حامی علمامسلم اکثریتی ریاست کومسلمانوں کی سیاسی اور اجتماعی حفاظت کاراستہ سمجھتے تھے۔ان تعبیرات کے نتائج اورکمزوریوں پربحث ہوسکتی ہے،مگربحث کومحض وفاداری اورغداری کے آسان فیصلوں میں سمیٹ دیناتاریخ کی پیچیدگی سے فرارہے۔ 
مولانافضل الرحمان کی پارلیمانی ذمہ داریوں کاجائزہ صرف کشمیرکمیٹی تک محدودنہیں رہناچاہیے۔بے نظیر بھٹوکے دوسرے دورِ حکومت میں،193 سے1996تک،وہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امورکے سربراہ بھی رہے۔اس منصب کی کارکردگی جانچنے کیلئے ضروری ہے کہ متعلقہ دوروں کے مقاصد،وفودکی تشکیل،اخراجات اورحاصل شدہ سفارتی نتائج کاریکارڈسامنے رکھا جائے۔قومی خزانے سے ہونے والاہرخرچ عوام کے سامنے جوابدہ ہے؛کسی سفرکی افادیت کافیصلہ مسافت کی طوالت یاملاقاتوں کی کثرت سے نہیں، قومی مفادمیں اس کے قابلِ بیان حاصل سے ہوناچاہیے۔مولانافضل الرحمان سے یہ سوال بہرحال بنتاہے کہ پاکستان کے سیاسی بندوبست میں طویل شرکت کے باوجودریاست سے کلی بے اعتنائی کاتاثرکیوں پیداہوتاہے؟پاکستان جمہوری تحریک کی سربراہی،قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف کی ذمہ داری اورکشمیرکمیٹی کی تقریبا ایک دہائی پرمحیط صدارت، قومی سیاست میں ان کی وسیع شرکت کی نشانیاں ہیں ۔ ان مناصب کاذکراحسان جتانے کیلئے نہیں، جوابدہی کی یاد دہانی کیلئے ضروری ہے۔خصوصاکشمیر کمیٹی کے حوالے سے قوم یہ جاننے کی حق دارہے کہ دستیاب وسائل،سفارتی مواقع اورسیاسی رسوخ نے کشمیریوں کے مقدمے کوآگے بڑھانے میں کیاقابلِ پیمائش کرداراداکیا۔قومی خدمت کامیزان منصب کی مدت نہیں،اس کاحاصل ہوتاہے۔
یوں تومولاناکے اہل خانہ اورقریبی رشتہ داروں سے منسوب مختلف سیاسی وانتظامی مناصب کی طویل فہرست ہے۔مولاناکے اہل خانہ اورقریبی رشتہ داروں تک پھیلے ہوئے سیاسی اثرپربھی سوال اٹھتاہے۔اس میں مولانااوران کے صاحبزادے کی پارلیمانی شرکت،عطا الرحمان کی سینیٹ کی رکنیت،حاجی غلام علی کی پشاورکی ضلعی نظامت اوربعدازاں گورنری، زبیرعلی کی پشاورکی بلدیاتی قیادت،اور لطف الرحمان کی صوبائی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف کی ذمہ داری کاحوالہ بہرحال موجودہے۔مولاناکی سالی شاہدہ اخترعلی صاحبہ دو مرتبہ رکن قومی اسمبلی،دوسری سالی نیرسلطانہ صاحبہ بھی رکن قومی اسمبلی،تیسری سالی ریحانہ اسماعیل صاحبہ دومرتبہ ایم پی اے۔۔۔۔۔۔۔۔کیسے کیسے مناصب مختلف اوقات میں مولاناکے گھرانے میں رہے لیکن وہ کہتے ہیںریاست نے انہیں دیاہی کیاہے اورریاست پر تھوکنے کی گالی دے ڈالی ہے۔
ان نسبتوں اورمدتوں کی درست تعیین متعلقہ ریکارڈمیں بھی موجودہے،محض رشتہ داری کسی شہری کوسیاست سے خارج نہیں کرتی ، لیکن اسے دوسروں پرترجیح کامستقل پروانہ بھی نہیں بنناچاہیے۔کسی رہنماکابیٹا،بھائی یاقریبی عزیزبھی عوامی تائیداوراہلیت رکھ سکتا ہے۔خرابی وہاں پیداہوتی ہے جہاں جماعتی مقابلہ رسمی رہ جائے،کارکن کیلئے ترقی کاراستہ بندہو اور قیادت کی قربت منصب کی بنیادی سندبن جائے۔پھرجماعت اجتماعی سیاسی تربیت گاہ کے بجائے خاندانی اثرکادائرہ محسوس ہونے لگتی ہے۔مگربنیادی سوال واضح ہے: جماعتی کارکن کی اہلیت اورعوامی خدمت کے مقابلے میں خاندانی قربت کاوزن کتناہے؟ (جاری ہے)