بھارتی ریاست اتر پردیش کے علاقے سرائے عنایت کی رہائشی مادھوری پٹیل نے پولیس سے درخواست کی ہے تاکہ وہ اپنی شادی کے لیے مدد حاصل کر سکے۔
خاتون کا کہنا ہے کہ اس کے خاندان والے اس کی شادی کروانے سے مسلسل انکار کر رہے ہیں تاکہ وہ اس کے اخراجات برداشت نہ کریں اور اس کی زندگی مشکل بنا دیں۔ مادھوری پٹیل نے بتایا کہ وہ گزشتہ 20 سال سے اکیلی رہ رہی ہے اور اپنے اخراجات خود اٹھا رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کے بھائی اور بہنوئی بار بار رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں اور متعدد رشتے بھی ٹھکرا چکے ہیں۔ اس نے الزام لگایا کہ اس کے بھائی نے خاندانی زمین بھی اپنے نام کر لی ہے اور اب وہ اس کی شادی کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔
خاتون نے اپنی درخواست میں یہ بھی بتایا کہ اسے ذہنی اذیت کے ساتھ جسمانی تشدد کا بھی سامنا ہے۔ اس کا مطالبہ ہے کہ پولیس کسی مناسب شخص سے اس کی شادی کا بندوبست کرے تاکہ وہ عزت کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ بھارتی پولیس کا کہنا ہے کہ شکایت موصول ہونے کے بعد تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور شواہد کی بنیاد پر مناسب کارروائی کی جائے گی۔ یہ واقعہ معاشرتی اور خاندانی دباؤ، مالی مشکلات اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے ایک اہم مسئلے کو اجاگر کرتا ہے۔