امریکا کی ریاست فلوریڈا سے تعلق رکھنے والی معروف ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر بریانا جانسن، جو سوشل میڈیا پر Dreamdoll_Brii کے نام سے جانی جاتی تھیں، فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاک ہو گئیں، جبکہ ان کے ساتھ گاڑی میں سوار دو افراد زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق 21 سالہ بریانا جانسن اتوار کی صبح تقریباً ساڑھے پانچ بجے سن شائن بلیوارڈ پر اپنی لائم گرین رنگ کی لیمبورگینی یورس (Lamborghini Urus) چلا رہی تھیں۔ اسی دوران نامعلوم حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی بے قابو ہو کر سڑک کنارے موجود ایک رہائشی مکان سے جا ٹکرائی۔ ریسکیو اہلکاروں کے پہنچنے پر بریانا جانسن موقع پر ہی دم توڑ چکی تھیں، جبکہ گاڑی میں موجود دیگر دو افراد زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیے گئے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔پولیس نے ابتدائی تحقیقات کے بعد واقعے کو ٹارگٹڈ حملہ قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق حملہ آور واردات کے فوراً بعد موقع سے فرار ہو گئے، جن کی تلاش کے لیے مختلف ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔تحقیقاتی اداروں کی جانب سے جاری کردہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فائرنگ کے بعد بریانا کی گاڑی تیزی سے چوراہا عبور کرتی ہے اور پھر قابو سے باہر ہو کر ایک گھر سے ٹکرا جاتی ہے۔مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی شواہد سے شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ فائرنگ سے کچھ دیر قبل ایک قریبی گیس اسٹیشن پر متاثرہ افراد اور بعض نامعلوم افراد کے درمیان تلخ کلامی یا جھگڑا ہوا تھا۔
اطلاعات کے مطابق بریانا اور ان کے ساتھی اس سے قبل ایک نجی پارٹی میں شریک تھے اور واپسی کے دوران ان کی گاڑی کا تعاقب کر کے حملہ کیا گیا۔پولیس نے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور عینی شاہدین سے معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے، تاہم ابھی تک کسی مشتبہ شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔بریانا جانسن سوشل میڈیا پر لائف اسٹائل، فیشن اور روزمرہ زندگی سے متعلق ویڈیوز شیئر کرتی تھیں اور نوجوانوں میں خاصی مقبول تھیں۔ ان کے ٹک ٹاک پر تقریباً 3 لاکھ 88 ہزار جبکہ انسٹاگرام پر 88 ہزار 800 سے زائد فالوورز تھے، جبکہ دونوں پلیٹ فارمز پر مجموعی طور پر ان کے فالوورز کی تعداد تقریباً 5 لاکھ تھی۔بریانا جانسن کی اچانک موت کی خبر سامنے آنے کے بعد ان کے مداحوں اور سوشل میڈیا صارفین نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے ذمہ دار افراد کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔