پاکستانی اداکار و ہدایت کار یاسر نواز نے والد اور بچوں کے تعلق پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ باپ کا اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ اور خوش گوار تعلق ہونا چاہیے، تاہم اس کے ساتھ احترام اور مناسب رعب بھی برقرار رہنا ضروری ہے۔
اداکارہ و میزبان ندا یاسر اور یاسر نواز نے اپنے حالیہ پروگرام میں والدین اور بچوں کے درمیان تعلقات پر گفتگو کی۔ اس موقع پر ان کے بیٹے بالاج بھی پروگرام میں شریک تھے، جہاں خاندان نے والدین اور بچوں کی تربیت اور باہمی تعلق سے متعلق مختلف پہلوؤں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔یاسر نواز نے کہا کہ بعض والدین اپنے بچوں کے ساتھ انتہائی سخت رویہ اختیار کرتے ہیں، جو مناسب نہیں۔ انہوں نے ایک ذاتی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے ایک کزن گھر میں اس قدر سخت مزاج ہیں کہ ان کے گھر پہنچنے سے پہلے ہی بچے اور دیگر اہل خانہ خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ والد کو اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھنا چاہیے تاکہ بچے بلا جھجھک اپنی بات ان سے کر سکیں، لیکن اس کے ساتھ والد کا احترام بھی قائم رہنا چاہیے۔
یاسر نواز نے اپنے والد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد ان کے بہترین دوست تھے، مگر وہ ان کا بے حد احترام بھی کرتے تھے۔ ان کے بقول بچوں کو یہ احساس ضرور ہونا چاہیے کہ اگر وہ غلطی کریں گے تو والد ناراض بھی ہو سکتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر سختی بھی کر سکتے ہیں، تاہم روزمرہ زندگی میں والد کا رویہ دوستانہ ہونا زیادہ بہتر ہے۔اس موقع پر ندا یاسر نے اپنی بیٹی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گھر میں اکلوتی بیٹی ہونے کی وجہ سے اس کی بہت سی خواہشات نسبتاً آسانی سے پوری ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹی صلہ اکثر اس بات کا فائدہ اٹھا لیتی ہے، جبکہ دونوں بیٹوں کو اپنی خواہشات منوانے کے لیے زیادہ کوشش کرنا پڑتی ہے۔