آسٹریلیا میں دنیا بھر کی توجہ حاصل کرنے والے "مشروم مرڈر" کیس کا فیصلہ آ گیا۔
وکٹوریہ کی ایک عدالت میں جیوری نے ایرین پیٹرسن نامی خاتون کو تین افراد کے قتل کا قصور وار قرار دے دیا ہے۔ خاتون پر الزام تھا کہ اس نے زہریلے مشروم کھلا کر شوہر کے والدین اور دیگر رشتہ دار کو ہلاک کیا تھا۔
واقعے کی تفصیل:
یہ دل دہلا دینے والا واقعہ جولائی 2023ء میں پیش آیا تھا، جب 49 سالہ ایرین پیٹرسن نے اپنے سسرالی رشتہ داروں کو کھانے پر مدعو کیا۔کھانے میں شامل زہریلے مشروم (Death Cap Mushrooms) کھانے کے نتیجے میں:
گیل ڈون پَیٹرسن (70) — ایرین کے سسر
ہیتر پَیٹرسن (66) — ایرین کی ساس
ہیدی ولسن (60) — مقتول جوڑے کی بہن
ہلاک ہو گئے تھے۔
واقعہ کہاں پیش آیا؟
یہ قتل کا واقعہ وکٹوریہ ریاست کے لیون گاتھا (Leongatha) نامی قصبے میں پیش آیا۔ایرین نے پولیس کو ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ مشروم "حادثاتی طور پر" کھانے میں شامل ہو گئے تھے، مگر تفتیش نے اس کے دعوے کو جھوٹا ثابت کر دیا۔
عدالت کی کارروائی:
کیس کو آسٹریلیا سمیت دنیا بھر میں "Mushroom Murder" کے نام سے جانا گیا۔مقدمے کے دوران عدالتی شواہد، کال ریکارڈز، انٹرنیٹ سرچ ہسٹری، اور ایرین کے بیانات کو پیش کیا گیا۔جیوری نے طویل غور و خوض کے بعد خاتون کو قتل کے تینوں الزامات میں مجرم قرار دیا۔
اہم شواہد:
ایرین کی سرچ ہسٹری میں "زہریلے مشروم کی اقسام" اور "زہر سے مارنے کا طریقہ" جیسے الفاظ شامل تھے۔پوسٹ مارٹم میں مقتولین کے جسم میں Amanitin زہر کی موجودگی ثابت ہوئی، جو Death Cap Mushroom میں پایا جاتا ہے۔
مزید قانونی کارروائی:
ایرین پیٹرسن کو سزا اگلی سماعت میں سنائی جائے گی، جس میں عمر قید کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عوامی ردعمل:
یہ واقعہ آسٹریلیا میں انتہائی خوف اور صدمے کا باعث بنا، اور اس نے گھریلو تعلقات میں چھپی نفرت کی شدت کو بے نقاب کیا۔سوشل میڈیا پر ایرین کو "قاتلہ میزبان" کے نام سے بھی پکارا جا رہا ہے۔