آسٹریلیا میں ایک سنسنی خیز مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے 50 سالہ خاتون ایرن پیٹرسن کو اپنے ساس، سسر سمیت تین افراد کو زہریلے مشروم کھلا کر قتل کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنا دی۔
یہ واقعہ 2023 میں پیش آیا تھا جب ایرن پیٹرسن نے اپنے سابق شوہر کے رشتے داروں کو دعوت پر بلایا اور انہیں زہریلے مشروم کھانے میں شامل کرکے پیش کیے۔ کھانے کے نتیجے میں ان کے ساس سسر اور ایک دیگر قریبی رشتہ دار کی موت واقع ہوگئی۔ اس خوفناک واقعے نے پورے آسٹریلیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور میڈیا میں اسے "مشروم مرڈر" کے نام سے جانا جانے لگا۔
رواں سال جولائی میں جیوری نے خاتون کو تینوں افراد کے قتل کا قصور وار قرار دیا تھا، تاہم سزا کا اعلان آج کیا گیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزمہ کو عمر قید کی سزا دی جاتی ہے، جس میں کم از کم 33 سال لازمی قید شامل ہوگی۔ اس مدت کے بعد ہی وہ رہائی کے لیے درخواست دینے کی اہل ہوں گی۔
یہ مقدمہ نہ صرف آسٹریلیا بلکہ دنیا بھر میں زیر بحث رہا اور اس کی عدالتی کارروائی کو عالمی میڈیا نے بھرپور کوریج دی۔ ماہرین قانون کے مطابق یہ فیصلہ آسٹریلیا کی تاریخ کے اہم ترین کرمنل ٹرائلز میں شمار کیا جائے گا۔