اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )ترلائی میں امام بارگاہ میں خودکش دھماکہ ہوا ہے جس میں 32 افراد شہید اور 169 افراد زخمی ہوگئے۔پولیس ذرائع کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے علاقے ترلائی کلاں کے غازی شاہ امام روڈ پر امام بارگاہ کے گیٹ پر خودکش حملہ آور کو روکا گیا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا، لاشوں اور زخمیوں کو پمز ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔پولیس ذرائع کے مطابق خارجی خودکش کا تعلق فتنہ الخوارج سے تھا۔ وفاقی دارالحکومت کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی۔ذرائع کا بتانا ہے کہ پولیس نفری اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ فوری طور پر موقع پر پہنچ علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے اور موقع سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔وفاقی دارالحکومت میں مسجد میں خودکش دھماکے کے بعد شہر کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ترجمان وزارت صحت کے مطابق دھماکے کے بعد وزیر صحت مصطفی کمال کی ہدایت پر وفاقی ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی، امام بارگاہ دھماکا، ہسپتالوں میں ادویات، طبی آلات اور دیگر ضروری سہولیات کی دستیابی یقینی بنائی جارہی ہے، ڈاکٹرز نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیںوزیراعظم شہباز شریف نے ترلائی میں امام بارگاہ پر خودکش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہادتوں پرافسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی ہے۔وزیراعظم نے وزیرداخلہ محسن نقوی سے ملاقات کر کے واقعہ کی تحقیقات کرکے فوری طور پر ذمہ داران کے تعین کی ہدایت کی ہے۔شہباز شریف کا کہنا تھاکہ دھماکے کے ذمیداران کو تعین کرکے انہیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے، ملک میں شرپسندی اور بے امنی پھیلانے کی ہرگزکسی کو اجازت نہیں دیں گے۔وزیراعظم نے زخمیوں کوبہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے وزیرصحت کو معاملے کی نگرانی کا حکم دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ خودکش بمبار کی شناخت کر لی گئی ہے اور ابتدائی معلومات کے مطابق اس نے افغانستان میں دہشت گردانہ کاروائیوں کی تربیت حاصل کی تھی۔ مزید بتایا گیا کہ بمبار متعدد بار افغانستان کا سفر کر چکا ہے اور حال ہی میں وطن واپس آیا تھا۔حکومتی ذرائع نے واضح کیا کہ افغانستان میں موجود مختلف دہشت گرد گروہ، طالبان رجیم کی سرپرستی میں، پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، اور پاکستان میں ہونے والی ہر دہشت گردانہ کارروائی کے پیچھے افغانستان اور بھارت کا گٹھ جوڑ کارفرما ہے۔حکومتی ترجمان نے کہا کہ پورا ملک اس مذموم اور بزدلانہ کارروائی کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مساجد اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کے یہ حملے پاکستانی قوم کے حوصلے اور عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے