پاکستان اور عراق کے درمیان سمندری روابط کو فروغ دینے کے حوالے سے اہم پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔
دونوں ممالک نے ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت گوادر اور ام قصر بندرگاہوں کے بیچ فیری سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات میں نئے باب کا اضافہ ہے اور اس کا مقصد سمندری مسافروں اور کارگو روابط کو بہتر بنانا ہے۔وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری اور عراقی سفارت خانے کے 3 رکنی وفد کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات میں اس معاہدے پر دستخط ہوئے، جس کی قیادت نائب سربراہ مشن عبدالقادر سلیمان الحمیری نے کی۔ جنید انور چوہدری نے اس فیری سروس کو ثقافتی، مذہبی اور کاروباری روابط کو تقویت دینے کے لیے اہم قرار دیا، خاص طور پر پاکستانی زائرین کے لیے جو عراق میں اربعین کے مذہبی رسومات میں شرکت کے لیے سفر کرتے ہیں۔ یہ راستہ ایران کے ذریعے زمینی سفر پر پابندی کے بعد ایک مؤثر متبادل بھی ثابت ہوگا، کیونکہ ہر سال لاکھوں پاکستانی زائرین عراق جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ، پاکستان اور عراق کے مابین تجارت کو بھی وسعت دینے پر زور دیا گیا ہے، جس میں ادویات، گوشت، چاول اور تیل کی برآمدات شامل ہیں۔ پاکستان نے عراق کو اپنی برآمدات میں اضافہ کیا ہے، جبکہ عراق سے تیل کی درآمدات بھی بڑھ رہی ہیں۔ گوادر کے فری زون میں پوٹاشیم سلفیٹ کی تیاری کی سہولت کے ذریعے تجارت کے امکانات مزید بڑھ سکتے ہیں۔پاکستان بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے آئندہ انتخابات میں حصہ لینے جا رہا ہے، اور اس سلسلے میں عراق سے حمایت طلب کی گئی جس پر عراق نے یقین دہانی کرائی۔ یہ اقدامات دونوں ممالک کے اقتصادی اور سمندری روابط کو مضبوط بنانے کی جانب اہم قدم ہیں، جو دونوں کے مفادات کے لیے سود مند ثابت ہو سکتے ہیں۔