ایران جہنم بنے گا، مگر کس کیلئے؟

تصور حسین شہزاد
 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہْرمز نہ کھولنے پر سنگین نتائج کی ایک اور دھمکی دی ہے۔ موصوف کی دماغی حالت اتنی خراب ہو چکی ہے کہ ایک اہم منصب پر فائز ہونے کے باوجود سفارتی زبان بْھلا کر گالم گلوچ پر اْتر آئے ہیں، جو ٹرمپ کی واضح شکست کی کْھلی علامت ہے۔ ایرانیوں کا ’’طریقہ واردات‘‘ ہی یہی ہے کہ وہ نفسیاتی طور پر دشمن کو مفلوج کر دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کی حالت اب ایسی ہو چکی ہے کہ انہیں مینٹل ٹریٹمنٹ کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ ٹرمپ کے غیر اخلاقی اور دھمکی آمیز بیان پر ایرانی قیادت کا بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے سینیئر مشیر علی اکبر ولایتی نے کہا ہے کہ مزاحمتی محاذ کی متحدہ کمان باب المندب کو آبنائے ہْرمز کی طرح دیکھتی ہے، امریکہ  نے دوبارہ کوئی غلطی کی تو عالمی توانائی اور تجارت کا بہاؤ ایک ہی وار سے مفلوج ہوسکتا ہے۔

سینیئر مشیر کا یہ جواب کوئی عام جواب نہیں، اگر ایران یہ قدم اْٹھا لیتا ہے تو اس سے دنیا کی سانس رْک سکتی ہے۔ ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ اپنے عوام کی فلاح و بہبود قربان کرکے دوسروں کو دھمکانے والا ٹرمپ خود پتھر کے زمانے میں پھنسا ہوا ہے۔ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ وہ ایران کو پتھر کے زمانے میں دھکیل دے گا، شاہ وہ بھول گیا ہے کہ اقتصادی پابندیوں کا مقصد ہی امریکہ کا یہی تھا کہ ایران پتھر کے سامنے میں چلا جائے، مگر ایران نے خودانحصاری کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے اپنے آپ کو ثابت قدم رکھا اور کامیاب ٹھہرا۔ ایرانی عدلیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایران کی استقامت اور مزاحمت سے ٹرمپ پاگل پن کا شکار ہو چکے ہیں، بوکھلاہٹ میں مبتلا امریکی صدر گھٹیا اور توہین آمیز زبان استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے ٹرمپ کو مخاطب کرکے اپنے بیان میں لکھا کہ ’’تم جنگی جرائم کے ذریعے کچھ حاصل نہیں کر سکو گے، تمہارے غیر ذمہ دارانہ اقدامات ہر امریکی خاندان کو زندہ جہنم میں دھکیل رہے ہیں، ہمارا پورا خطہ جلنے والا ہے، کیونکہ تم نیتن یاہو کے احکامات ماننے پر مْصر ہو، موجودہ صورتحال کا واحد حل ایرانیوں کے حقوق کے احترام میں ہے‘‘۔ دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کا کہنا ہے کہ ’’اقوام متحدہ کا ضمیر زندہ ہوتا تو یہ ادارہ جنگ کے شوقین ٹرمپ کی کھلے عام دھمکیوں پر خاموش نہ رہتا۔ ٹرمپ کی ایران کے اہم شہری بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی دھمکی جنگی جرم کی نیت کا واضح ثبوت ہے، ایسے سنگین جنگی جرائم کو فوری رْکوانا بین الاقوامی برادری اور تمام ریاستوں کی قانونی ذمہ داری ہے، کل بہت دیر ہو جائے گی‘‘۔ 

ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ و اسرائیل ایران کے ہاتھوں ملنے والی ذلت آمیز شکست پر سیخ پا ہیں، اور اب یہ جنگ 
مزید پھیلنے کے امکان بڑھ گئے ہیں۔ یورپ اس جنگ سے الگ تھلگ دکھائی دے رہا ہے۔ فرانس اور برطانیہ نے ٹرمپ کو صاف جواب دے دیا ہے۔ جس سے امریکہ کی عالمی سطح پر توہین ہوئی ہے کہ ایک ’’سپر پاور‘‘ کو یورپ نے جواب دیا ہے۔ فرانسیسی صدر کو بھی اب ٹرمپ کھلے عام گالیاں دے رہے ہیں۔ جب کہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ طاقت کا توازن اب تبدیل ہو کر مشرق وسطیٰ میں منتقل ہو چکا ہے، اب امریکہ نہیں بلکہ ایران سپر پاور بن چکا ہے۔ ایران کو ایک اور بڑی کامیابی ملی ہے، وہ یہ یہ دنیا بھر میں شیعہ سنی کو ادراک ہو گیا ہے کہ ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں، بلکہ ان کے درمیان دوریاں امریکہ ہی کی پیدا کردہ تھیں۔ اب عرب ہوں، یا دیگر مسلم اقوام، سب متحد ہیں اور یہ ا?یت اللہ سید علی خامنہ کی کامیاب حکمت عملی ہے کہ انہوں نے سنی فلسطین کے دفاع کیلئے دشمن کے سامنے اپنا سینہ پیش کیا۔ اس اقدام سے امت مسلمہ کو سمجھ ا?گئی کہ اسلام کی بقاء￿  کیلئے ہمیشہ ’’حسینیت‘‘ نے کردار ادا کیا ہے۔

ایرانی حکمت عملی سے نہ صرف امریکہ و اسرائیل بلکہ ان دونوں کے مسلمانوں کی صفوں میں چھپے ایجنٹ بھی بے نقاب ہو گئے ہیں۔ ایرانی حکمت عملی نے حسینیت اور یزیدیت میں واضح لکیر کھینچ دی ہے۔ ٹرمپ دورِ حاضر کو یزید بن کر سامنے آیا ہے۔ اب جو بھی ٹرمپ کی حمایت کرے گا یا ایران کی مخالفت کرے گا، وہ یزیدی لشکر کا حصہ شمار ہو گا۔ اس لئے مسلم حکمرانوں کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہو گا۔ متحدہ عرب امارات تو کھل کر سامنے آگیا ہے کہ اس کو مسلم اْمہ سے زیادہ یہود و نصاریٰ عزیز ہیں اور قرآن کی صریح ہدایت اور وارننگ کے باوجود یہ انہیں ہی اپنا دوست سمجھتے ہیں، جبکہ قرآن پاک نے واضح کہہ دیا ہے کہ ’’یہود و نصاریٰ کبھی تمہارے دوست نہیں ہو سکتے‘‘۔ مسلمانوں کیلئے قرآن کریم راہ ہدایت ہے۔ جو اس سے غافل ہوا، وہ گمراہی کے اندھیروں میں ڈوب گیا۔

اس جنگ میں ٹرمپ جھوٹ پر جھوٹ بول رہا ہے۔ پہلے کہا کہ ایران کی ساری نیوی تباہ کر دی ہے۔ اگر ٹرمپ کا یہ دعویٰ درست ہے تو پھر آبنائے ہرمز تو کھل جانا چاہیئے کہ نیوی کا تو وجود نہیں۔ جبکہ آج کا بڑا جھوٹ یہ ہے کہ ہم نے اپنے پائلٹس ریسکیو کر لئے ہیں۔ اگر آپ نے اپنے پائلٹ ریسکیو کر لئے ہیں تو انہیں میڈیا کے سامنے لائیں؟ چھپا کر کیوں رکھا ہوا ہے۔ اب نئی دھمکی کہ آبنائے ہرمز نہ کھلی تو منگل کے روز ایران کے اہم ایٹمی و توانائی تنصیبات، اور اہم پْل گرا دیئے جائیں گے اور ایران کو جہنم بنا دیا جائے گا۔ جی بالکل ایران کو جہنم بنا دیا جائے گا، لیکن ٹرمپ یاد رکھے کہ ایران ایرانیوں کیلئے جہنم نہیں، بلکہ امریکیوں اور اسرائیلی کیلئے جہنم بنے گا۔ اور بہت جلد دنیا اپنے بچوں کو تعلیمی نصاب میں پڑھا رہی ہو گی کہ ’’ایک تھا اسرائیل‘‘۔