15ویں نیشنل ریسکیو چیلنج کا افتتاح ، پیشہ ورانہ مہارتوں کامظاہرہ

لاہور (خصوصی رپورٹ )صوبائی وزیر ایمرجنسی سروسز خواجہ سلمان رفیق نے ریسکیو ہیڈکوارٹرز میں 15ویں نیشنل ریسکیو چیلنج 2026 کا افتتاح کر دیا۔پاکستان بھر سیخیبر پختونخوا سے مالاکنڈ، پشاور، سندھ سے غازی اور شاہ لطیف، سی ڈی اے اسلام آباد، لاہور، سرگودھا، ڈیرہ غازی خان، ملتان، ساہیوال، بہاولپور، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور راولپنڈی ڈویڑنز کی 14 ٹیموں نے حصہ لیا۔ ریسکیورز فائر فٹنس، کیبل کارٹ و ہائٹ ریسکیو، واٹر ریسکیو، ڈیپ ویل ریسکیو، سوئمنگ اور ٹراما مینجمنٹ سمیت مختلف ڈسپلنز میں اپنی پیشہ ورانہ مہارت، جسمانی فٹنس، ٹیم ورک اور تکنیکی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ریسکیو چیلنج 7 اکتوبر تک جاری رہے گا۔ خواجہ سلمان رفیق نے خطاب میں کہا اڑھائی سال سے انسانی جانوں کو بچانے والے عظیم ادارے ریسکیو سے منسلک ہونا اعزاز کی بات ہے، ریسکیورز نے رنگ و نسل، مذہب و قوم سے بالاتر ہو کر انسانیت کو بچانے کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کیا، سیلاب 2025 میں پاک فوج و دیگر اداروں کے ہمراہ ریسکیورز نے لاکھوں افراد کو بچایا۔ ہر شہری کو ایمرجنسی پر بروقت معیاری سروس ملنی چاہیے۔سیکرٹری ایمرجنسی سروسز پنجاب ڈاکٹر رضوان نصیر نے خطاب میں کہا ایمرجنسی سروسز اکیڈمی ریسکیورز کو عالمی معیارکی تربیت دے رہاہے۔ ریسکیو 1122 سروس ابتک دو کروڑ سے زائد افراد کو ریسکیو کر چکی ہے، موٹر بائیک سروس نے 50 لاکھ سے زائد افراد کو ریسکیو کیا جسکا اوسط رسپانس ٹائم 5 منٹ سے کم ہے۔ فائر سروس نے3لاکھ سے زائد ایمرجنسیز میں بروقت رسپانس کیا جبکہ واٹر ریسکیو نے 20 ہزار سے زائد حادثات میں 80 سے 90 فیصد ریکوری ریٹ برقرار رکھا۔ سیلاب کے دوران ساڑھے 3 لاکھ افراد کو بوٹس کے ذریعے ریسکیو کیا گیا۔ پاکستان ریسکیو ٹیم کی انسراگ سرٹیفکیشن پورے پاکستان کیلئے اعزاز ہے۔