گندم بحران :وفاق کی صوبوں سے مشاورت شروع

 15 لاکھ ٹن کا شارٹ فال دور کرنے کیلئے درآمد سمیت مختلف آپشنز پر غور
 قلت کا خدشہ نہیں :پنجاب حکومت، فیڈ ملز میں گندم کے استعمال پر پابندی برقرار 
لاہور (خصوصی رپورٹ)گندم بحران خدشات کے پیش نظر وفاقی حکومت نے پنجاب سمیت چاروں صوبوں سے گندم سٹاک کی تفصیلات طلب کر لیں جس کو سامنے رکھ کر گندم درآمد کا فیصلہ کیا جائے گا ،وفاقی وزارت غذائی تحفظ کی گندم بحران پر قابو پانے کیلئے صوبوں سے مشاورت شروع کر دی ۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزارت غذائی تحفظ نے گندم بحران کا حل تلاش کرنا شروع کردیا ہے اور وزارت غذائی تحفظ کا گندم کا 15 لاکھ ٹن کا شارٹ فال دور کرنے کیلئے اپنے طور پر گندم درآمد کرنے سمیت مختلف آپشنز زیر غور ہیں تاہم پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت کے مراسلے کا جواب دیدیا جس میں بتایا گیا کہ پرائیویٹ سیکٹر کے پاس 22 لاکھ جبکہ سرکاری طور پر 8 لاکھ ٹن ذخائر موجود ہیں، قلت کا خدشہ نہیں ، گندم کے حوالے سے فلور ملز ایسوسی ایشن نے خبردار کیا تھا کہ قلت کا خدشہ ہے جس پر وفاقی حکومت نے ایکشن لے لیا۔ ادھر محکمہ داخلہ پنجاب کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے بھر کی فیڈ ملز میں گندم کو مرغیوں کے دانے میں استعمال کرنے پر دفعہ144 نافذ کر دی ہے۔ دفعہ144 کا نفاذ گندم، آٹے اور روٹی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لئے کیا گیا۔ حکمنامے کے مطابق گندم صرف فلور ملز میں آٹا بنانے کے لئے استعمال ہو گی اور گندم کے فیڈ ملز میں استعمال پر گزشتہ ماہ لگائی گئی پابندی میں ایک ماہ کی توسیع کر دی گئی ہے۔ ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب نے بتایا ہے کہ حکومت پنجاب نے صوبے میں گندم کی ممکنہ قلت کے خدشات کے پیشِ نظر یہ فیصلہ کیا ہے ،پابندی کا اطلاق2 نومبر تک ہوگا۔