سعودی عرب میں جمعہ سے منگل تک مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور دیگر شہروں میں گرج چمک کے ساتھ بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ تیز بارش کے باعث مختلف علاقوں میں اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں فضائی آلودگی کی صورتحال بھی تشویشناک ہوگئی ہے اور لاہور 373 ایئر کوالٹی انڈیکس کے ساتھ دنیا کے آلودہ ترین بڑے شہروں میں پہلے نمبر پر آگیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سعودی محکمہ شہری دفاع نے شہریوں اور زائرین کو ممکنہ بارشوں کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ محکمہ شہری دفاع کے مطابق جمعہ سے منگل تک مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور مملکت کے دیگر شہروں میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہوسکتی ہے، جبکہ بعض علاقوں میں تیز بارش کے باعث سیلابی ریلوں کا خطرہ بھی موجود ہے۔حکام نے شہریوں کو نشیبی علاقوں، وادیوں اور برساتی نالوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ بارش کے دوران غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز اور متعلقہ اداروں کی جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔دوسری جانب پاکستان کے صوبہ پنجاب میں فضائی آلودگی کی شدت میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ لاہور 373 ایئر کوالٹی انڈیکس کے ساتھ دنیا کے آلودہ ترین بڑے شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آگیا، جبکہ ملتان میں فضائی آلودگی کی شرح 719 ریکارڈ کی گئی۔
لاہور میں آلودہ فضا کے باعث شہریوں کو مختلف طبی مسائل کا سامنا ہے۔ آنکھوں میں جلن، خارش، گلے میں خراش اور مسلسل کھانسی کی شکایات میں اضافہ ہورہا ہے، جبکہ سانس کی بیماریوں سے متاثرہ افراد کی مشکلات بھی بڑھ رہی ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی میں موجود مضر ذرات انسانی صحت بالخصوص نظام تنفس اور آنکھوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔ بچوں، بزرگوں اور سانس کے امراض میں مبتلا افراد کو آلودہ ماحول میں زیادہ دیر رہنے سے گریز کرنا چاہیے۔ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں، باہر جاتے وقت مناسب حفاظتی ماسک استعمال کریں اور آنکھوں کو آلودہ ہوا سے بچانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔