اسلام آباد: عالمی بینک کی تازہ رپورٹ میں پاکستان کے بیرونی قرضوں میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہونے والے نمایاں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2015 سے 2025 کے اختتام تک پاکستان کے بیرونی قرضوں میں تقریباً 100 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد مجموعی بیرونی قرضوں کا حجم 68.7 ارب ڈالر سے بڑھ کر 135.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ صرف سال 2025 کے دوران بھی پاکستان کے بیرونی قرضوں میں 4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے بڑھتے ہوئے بیرونی قرضے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم چیلنج بنتے جا رہے ہیں، جبکہ قرضوں کی ادائیگی اور ان پر عائد سود کی ذمہ داریاں بھی ملکی مالیاتی وسائل پر دباؤ بڑھا رہی ہیں۔
بیرونی قرضوں میں سرکاری اور نجی شعبے کا حصہ
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے مجموعی بیرونی قرضوں میں تقریباً 107 ارب ڈالر سرکاری اور حکومتی ضمانت کے تحت حاصل کیے گئے قرضے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نجی شعبے کے غیر ضمانتی بیرونی قرضوں کا حجم 17.58 ارب ڈالر جبکہ قلیل مدتی بیرونی واجبات 10.45 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے بیرونی قرضوں کا بڑا حصہ سرکاری ذمہ داریوں پر مشتمل ہے، جس کی ادائیگی کے لیے حکومت کو مستقبل میں مزید مالی وسائل درکار ہوں گے۔
کثیرالجہتی اداروں اور دوطرفہ ممالک کے قرضے
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق کثیرالجہتی مالیاتی اداروں کے پاکستان پر 56.83 ارب ڈالر واجب الادا ہیں، جبکہ دوطرفہ قرض دہندگان کے ذمے 42.43 ارب ڈالر کے قرضے ہیں۔چین 22.42 ارب ڈالر کے قرضوں کے ساتھ پاکستان کا سب سے بڑا دوطرفہ قرض دہندہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان قرضوں میں چین کا نمایاں حصہ پاکستان کے بیرونی مالیاتی ڈھانچے میں اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔اسی طرح عالمی بینک کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن (IDA) کے پاکستان پر 19.21 ارب ڈالر جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے 16.83 ارب ڈالر واجب الادا ہیں۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے سال 2025 کے دوران پاکستان کو 2.3 ارب ڈالر فراہم کیے، جبکہ چین نے پاکستان کے تقریباً 2 ارب ڈالر کے قرضوں کی واپسی کی مدت میں توسیع بھی کی۔
نجی قرضوں پر سود کی شرح سرکاری قرضوں سے زیادہ
عالمی بینک نے پاکستان کے قرضوں کی شرائط اور ان پر عائد شرح سود کے حوالے سے بھی اہم تفصیلات جاری کی ہیں۔رپورٹ کے مطابق سرکاری قرض دہندگان سے حاصل کیے گئے نئے قرضوں پر اوسط شرح سود 3.6 فیصد رہی، جبکہ نجی قرض دہندگان سے حاصل کیے گئے نئے قرضوں پر اوسط شرح سود 8.6 فیصد ریکارڈ کی گئی۔اس کے علاوہ نجی شعبے سے حاصل کیے گئے قرضوں کی اوسط واپسی کی مدت صرف 3 سال ہے، جبکہ سرکاری قرضوں کی اوسط واپسی کی مدت 16 سال ہے۔ماہرین معاشیات کے مطابق نجی قرضوں پر زیادہ شرح سود اور مختصر مدت میں واپسی کی ذمہ داریاں ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور ادائیگیوں کے توازن پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہیں۔
قومی آمدنی کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ
رپورٹ کے مطابق پاکستان کا بیرونی قرضہ اب مجموعی قومی آمدنی (GNI) کے 34 فیصد کے برابر ہو چکا ہے، جبکہ ملک کی برآمدات کا تقریباً 33 فیصد بیرونی قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے۔اسی طرح مجموعی قومی آمدنی کا 3 فیصد بھی بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کو بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے اپنے زرمبادلہ کے وسائل کا ایک بڑا حصہ مختص کرنا پڑ رہا ہے، جس سے ترقیاتی منصوبوں، معاشی سرگرمیوں اور دیگر اہم شعبوں کے لیے دستیاب مالی وسائل محدود ہو سکتے ہیں۔
قرضوں کے دباؤ میں کمی کے لیے عالمی بینک کی تجاویز
عالمی بینک نے پاکستان کو بڑھتے ہوئے قرضوں کے دباؤ سے نمٹنے کے لیے برآمدات میں اضافے، مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانے اور قرضوں کی شرائط پر نظرثانی کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کو اپنی برآمدی صلاحیت بڑھانے، سرکاری اخراجات کو مؤثر انداز میں کنٹرول کرنے اور ایسے قرضوں کے حصول کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے جن کی شرح سود کم اور واپسی کی مدت طویل ہو۔معاشی ماہرین کے نزدیک پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی پیداوار، صنعتی ترقی، سرمایہ کاری اور برآمدات کے فروغ پر توجہ دے تاکہ معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔