صدر آصف علی زرداری نے قطر کے کردار کو خطے میں امن اور استحکام کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قطر نے خطے میں امن کے لیے ایک تعمیری ثالث کا کردار ادا کیا ہے اور افغان امن عمل کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے قطر کے اخبار ’’دی پیننسولا‘‘ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ قطر نے خاص طور پر حماس اور بین الاقوامی فریقوں کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کی اور امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی، جس سے افغان امن عمل کو آگے بڑھنے کا موقع ملا۔صدر زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ قطر کے اس تعمیری کردار کی بدولت خطے میں امن اور مکالمہ کے فروغ میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور قطر کے درمیان شراکت داری علاقائی امن، توانائی کے تحفظ اور سماجی ترقی کے لیے سٹریٹجک اہمیت رکھتی ہے۔ دونوں ممالک افرادی قوت کی دستیابی، مہارت کے فروغ اور پائیدار سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو بڑھا سکتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ دوحہ عالمی عمل کا مقصد علاقائی اور عالمی سطح پر اشتراک کے امکانات پیدا کرنا ہے۔ پاکستان غربت، تعلیم، صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے سماجی تحفظ اور انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے سماجی پروگرام، جیسا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، کے تحت 90 لاکھ سے زائد خاندانوں کو براہ راست مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جو کہ غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
صدر زرداری نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے بھی اقدامات پر زور دیا اور کہا کہ موسمیاتی تبدیلی براہ راست روزگار اور زندگی کو متاثر کرتی ہے، جس کے حل کے لیے پاکستان موسمیاتی موافقت اور سماجی تحفظ کو مضبوط بنا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی تیز بحالی کے لیے نقد امداد فراہم کی گئی ہے، جو کہ انسانی بحران سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔مزید برآں، انہوں نے خواتین کے مالی خودمختاری کے لیے جاری اقدامات، جیسے کہ ڈیجیٹل والٹس، کا ذکر کیا اور کہا کہ ہم ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں خواتین بااختیار ہوں اور نوجوانوں کو باعزت روزگار ملے۔ زرداری کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے پاکستان ایک پرامن، مساوی اور ترقی یافتہ ملک کی طرف بڑھ رہا ہے۔