پرتگال کے عالمی شہرت یافتہ فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو کے سعودی عرب چھوڑنے سے متعلق خبروں نے سوشل میڈیا اور عالمی میڈیا میں بحث چھیڑ دی ہے، تاہم مختلف رپورٹس کے مطابق اس معاملے پر اب بھی ابہام برقرار ہے۔
میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ رونالڈو کا تقریباً 81 ملین ڈالر مالیت کا ذاتی طیارہ پیر کی شام ریاض سے اسپین کے شہر میڈرڈ کے لیے روانہ ہوا۔ یہ خبریں ایسے وقت میں سامنے آئیں جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کی اطلاعات گردش کر رہی تھیں۔رپورٹس کے مطابق اسی دوران ریاض میں موجود امریکی سفارت خانے پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے کی خبر بھی سامنے آئی تھی جس کے بعد خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر تشویش بڑھ گئی تھی۔ اس تناظر میں سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں کہ رونالڈو ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر سعودی عرب چھوڑ کر یورپ روانہ ہو گئے ہیں۔تاہم پریس ایسوسی ایشن اور بعض عرب میڈیا اداروں کی تازہ رپورٹس کے مطابق رونالڈو بدستور سعودی عرب میں موجود ہیں۔ اگرچہ ان کے نجی طیارے کی یورپ روانگی کی تصدیق ہوئی ہے لیکن یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا رونالڈو یا ان کے اہل خانہ اس طیارے میں سوار تھے یا نہیں۔
یہ صورتحال اس وقت مزید اہم ہوگئی جب Asian Football Confederation نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث کئی فٹبال میچز کو معطل کر دیا۔ ان معطل ہونے والے مقابلوں میں سعودی کلب Al‑Nassr FC کا اے ایف سی کوارٹر فائنل بھی شامل ہے جو دبئی میں کھیلا جانا تھا۔دوسری جانب سعودی پرو لیگ کے میچز تاحال شیڈول کے مطابق جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق النصر کا اگلا میچ ہفتے کے روز ریاض میں NEOM SC کے خلاف متوقع ہے۔فٹبال شائقین اور میڈیا اس بات کے منتظر ہیں کہ آیا رونالڈو واقعی سعودی عرب میں موجود رہتے ہیں یا سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر ان کے سفر سے متعلق مزید معلومات سامنے آتی ہیں۔