مسجد اقصیٰ کے سینئر امام، نے مسجد کی مسلسل بندش پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکام ہر موقع کو استعمال کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ کو بند کر دیتے ہیں اور یہ اقدام کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔واضح رہے کہ مسجد اقصیٰ پر پابندیاں ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی سے پہلے بھی عائد کی جاتی رہی ہیں۔ گزشتہ ماہ اسرائیلی حکام نے اعلان کیا تھا کہ رمضان کے پہلے جمعے کی نماز کے لیے مقبوضہ مغربی کنارے سے صرف 10 ہزار فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔ماضی میں لاکھوں افراد یہاں جمع ہو کر نماز ادا کرتے رہے ہیں، جبکہ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں تقریباً پانچ لاکھ افراد کے بیک وقت جمع ہونے کی گنجائش موجود ہے۔